سوال: ذبح کرنے والے کے لئے کونسے شرائط ہیں.؟
الجواب وباللہ التوفیق:
فقہاءکرام نے ذبح کے حوالے سے متعدد مسائل کی تفصیل بیان کئے ہیں ان مسائل میں سے ایک مسئلہ ذبح کرنے والے کے لئے شرائط ہیں۔ اس حوالے سے علامہ کاسانی رحمہ اللہ بدائع الصنائع میں شرائط کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
واما شرائط ركن الذكاة فانواع. بعضھا يعم نوعی الذكاة الاختيارية والاضطرارية وبعضها يخص احدهما دون الاخر امّا الذي يعمها فمنھا ان يكون عاقلا فلاتؤكل ذبيحۃ المجنون والصبي الذي لا ياكل والسكران الذي لا يعقل لمانذكر أن القصد الى التسميةعندالذبح شرط ولايتحقق القصد الصحيح ممّن لايعقل فان كان الصبى يعقل الذبح ويقدر عليه تؤكل ذبيحته وكذا السكران ومنهاان يكون مسلما او كتابيا فلا تؤكل ذبيحة اهل الشرك والمجوسى والوثنى والمرتد وامّا ذبيحة اهل الشرك فلقوله تعالى وما اهل لغير الله. وقوله عز وجل او ماذبح على النصب أى الأصنام التى يعبدونها. واما ذبيحة المجوسى فلقوله عليه السلام سنؔوا بالمجوس سنة اهل الكتاب غير ناكحى نسائهم ولا آكلى ذبائحهم.[1] ۔
ان شرائط کے مختلف انواع ہیں ۔ ان شرائط میں بعض شرائط ذبح کے دو انواع کو عموماً شامل ہیں ایک ذبح اختیاری دوسری ذبح اضطرارى اور بعض ان میں بعض سے خاص ہیں۔ وہ جو عام ہیں ان میں ایک شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا عاقل ہو کیونکہ مجنون کا ذبح معتبر نہیں ہیں۔ دوسرے بچے کا ذبیحہ بھی نہیں کھایا جا سکتا جو فہم نہیں رکھتا اور نشہ کرنے والا کا ذبیحہ بھی نہیں کھایا جا سکتا جو سمجھ نہیں رکھتا۔ البتہ ذابح کے لئے بسم اللہ پڑھنا عند الذبح بھی شرط ہے۔ اور صحیح ارادہ تو ثابت نہیں ہوتا غیر عاقل کے لیے ہاں اگر بچہ ذبح کو جانتا ہواوراس پر قادر بھی ہو تو اس کا ذبح جائز ہے ۔ ان شرائط میں ذابح کا مسلمان ہونا یا کتابی کا ذبیحہ تو یہ بھی جائز ہے۔ اہل الشرک مجوسی اور بت پرست ومرتد کا ذبیحہ کھانے کے قابل نہیں ہے۔ ذبیحہ اہل الشرك غير الله کے نام پر ذبح کرنا ناجائز ہے ۔ اس طرح ذبح علی النصب۔ اور مجوسیوں کے ذبیحہ اور ان سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے درج بالا عبارت سے ذبح کرنے والے کی شرائط معلوم ہوا ایک شرط ذبح کرنے والے کے لئے مسلمان ہونا یا خواہ کتابی ہو۔ لیکن عند الذبح بسم الله پڑھنا بھی شرط ہے ذابح کیلئے بسم الله پڑھنا تو وقت الذبح شرط قرار دیا.کلب معلّم پراگر عند الارسال بسم الله پڑھ لیا جائز ہے کیونکہ یہ شرط ہےاور عدى بن حاتم کی حدیث میں یہ بات ملتا ہے ان سے نبى علیہ السلام نے فرمایا. اذا ارسلت كلبك المعلم وذكرت اسم الله فكل. خطيب شربينى مغني المحتاج كتاب الصيد والذبائح میں لکھتے ہیں ۔
وشرط ذابح وصائد حل مناكحته وتحل ذكاة امة كتابية ولو شارك مجوسيٌ مسلماً في الذبح حرم.[2] ۔ ذبح کرنے اور شکار کرنے والے کے لئے شرط نکاح کا حلال ہونا ان کے ساتھ۔أى حل مناكحته للمسلمين بكونه مسلما او كتابيا بشرط السّابق في محرمات النكاح. قال الله تعالى وطعام الذين اوتوا الكتاب حل لكم [3]۔
۔ چنانچہ فتاوی تاتارخانیہ میں ہے۔ فنقول اهل الذبح من له ملة التوحيددعوى واعتقاداكمسلم اودعوى لااعتقاداً كالكتابى ويستوى ان يكون الكتابي حربيا او ذميا. [4] ذبح کرنے والے کے لئے شرط ملت توحید پر ہونا دعوی بھی کرتا ہوں اور عقیدہ بھی رکھتا ہوں جیسا مسلمان ہو یا صرف دعوی توحید کرتا ہے نہ کہ اعتقاداً جيسا کتابی “کتابی عام ہے حربی ہویا ذمی۔ مرقاة میں ملا علی قاری لکھتے ہیں .ولذا قال علماؤنا : يشترط ان لا يشارك المعلم ما لا يحل صيده وھوكلب غير معلم او كلب مجوسی او کلب لم يرسل للصيد او كلب أرسل له وترك التسمية عليه عمدًا واجتمع الحرمة والاباحه فغلبت الحرمة واستدل به علماؤنا ايضا على ان الشرط في الذابح ان لايكون تارك التسمية عمدا مسلما كان ووجه الدلالة انه علل الحرمة بترك التسمية عمدا وامّاإن نسى التسمية صح لان النسيان مرفوع الحكم عن الأمة لقوله عليه السلام رفع عن امتى الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه.[5]۔
ہمارے علمائے کرام نے فرمایا ہے یہ شرط لگایا گیا ہے کہ معلم یعنی تربیت شدہ کتے کے ساتھ وہ کتا شریک نہیں کرنا جس کا شکار حلال نہیں ہو وہ غیر تربیت شدہ کتا ہو۔ یا آتش پرست کا کتا یا وہ کتا جو شکار کے لئے نہیں چھوڑا گیا۔ یا کتا شکار کے لئے چھوڑا مگر بسم اللہ چھوڑدیاعمداً حرمت اور اباحت جمع ہوگیا تو حرمت کو غلبہ ہوگی. اور ہمارے علمائے کرام نے اس پر استدلال کیا کہ ذابح میں شرط یہ ہیں کہ بسم اللہ چھوڑنے والے نہیں ہوعمداًخواه مسلمان ہوں یا کتابی. وجہ الدلالۃیہ ہے کہ حرمت ترك التسمیۃ عمدا کی وجہ سے ہے. اگر بسم اللہ پڑھنا نسیان کے ساتھ ہو توصحیح ہے کیونکہ نسیان مرفوع الحكم ہیں امت سے” نبی علیہ السلام نے فرمایا میری امت سے خطا، نسیان اور وہ جو ان پر جبر ہو جائے رفع ہو چکی ہے۔
چنانچہ الدکتوروہبۃالزحیلی شروط الذابح لکھتے ہیں. شروط الذابح: مما سبق تعرف شروط الذابح : وهى ان يكون مميزاً عاقلا مسلمااو كتابياً؛ذمیاًاو حربيا او من نصارى بني تغلب قاصداً التذكية ولو كان مكرها على الذبح ذكراً او انثى طاهرا او حائضا بصيراً او أعمى، عدلاًأو فاسقاً لعموم الادلة وعدم المخصص فلا يصح ذبح غير المميز والمجنون والسكران عند الجمهور خلافا للشافعي. ولا تؤكل ذبيحة المشرك والمجوسي والوثني والمرتد. وتكره عند الشافعية ذكاة الاعمى وغير المميز والمجنون والسكران۔ وتكره عند الكل ذبيحةالنصراني او اليهودي و الفاسق وتارك الصلوة. دليل اباحة ذبيحۃ المرأة: أن جارية لكعب بن مالك كانت ترعى غنماً بسلع فأصيبت شاة منها فادركتھا فذبحتها بحجر فسأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال كلوها.[6]
واللہ اعلم بالصواب
[1] :بدائع الصنائع۔ج۔4۔ص۔164تا165 الناشر دار الکتاب کویتہ
: [4] فتاوى تاتار خانیہ ۔ج ۔18۔ص۔389۔ الناشر عزیزیہ چمن
[5] : مرقاة شر ح مشکاۃ المصابیح . ج.8.ص۔4۔ مکتبہ الحسن
[6] : الفقه الاسلامي وادلته.ج4.ص۔2763۔ الناشر رشیدیہ