سوال ۔قربانی کرتے وقت دوسرے لوگوں سے ذبح میں مد دلی جاتی ہے بلکہ کھبی کھباد خود زبح کرنے سے انسان کتراتا ہے اور دوسروں سے ذبح کرتا ہے خود جانور ذبح کرنا افضل ہے یا دوسروں سے کرایا جائے ؟

سوال  ۔قربانی کرتے وقت دوسرے لوگوں سے  ذبح میں مد  دلی جاتی ہے بلکہ کھبی کھباد خود زبح کرنے سے انسان کتراتا ہے اور دوسروں سے ذبح کرتا ہے خود جانور ذبح کرنا افضل ہے یا دوسروں سے کرایا   جائے ؟

الجواب وباللہ التوفیق

آدمی خدا کی بخشی ہوئی جن جن چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے ان میں سے ہر ایک کی قربانی اس کو اللہ کے نام پر کرنی چاہیے، نہ صرف شکر نعمت کے لیے، بلکہ اللہ کی برتری اور مالکیت تسلیم کرنے کے لیے بھی، تاکہ آدمی دل میں بھی اور عمل سے بھی اس امر کا اعتراف کرے کہ یہ سب کچھ خدا کا ہے جو اس نے ہمیں عطا کیا ہے۔ ایمان اور اسلام نفس کی قربانی ہے۔ نماز اور روزہ جسم اور اس کی طاقتوں کی قربانی ہے۔ زکوۃ ان اموال کی قربانی ہے جو مختلف شکلوں میں ہم کو اللہ نے دیے ہیں۔ جہاد وقت اور ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کی قربانی ہے۔ قتال فی سبیل اللہ جان کی قربانی ہے۔ یہ سب ایک ایک طرح کی نعمت اور ایک ایک عطیے کے شکریے ہیں۔ اسی طرح جانوروں کی قربانی بھی ہم پر عائد کی گئی ہے تاکہ ہم اللہ تعالی کی اس عظیم الشان نعمت پر اس کا شکر ادا کریں اوراس کی بڑائی مانیں کہ اس نے اپنے پیدا کیے ہوئے بکثرت جانوروں کو ہمارے لیے مسخر فرمایا جن پر ہم سوار ہوتے ہیں جن سے کھیتی باڑی اور بار برداری کی خدمت لیتے ہیں، جن کے گوشت کھاتے ہیں، جن کے دودھ پیتے ہیں، جن کی کھالوں اور بالوں اور خون اور ہڈی، غرض ایک ایک چیز سے بے حساب فائدے اٹھاتے [1]

قربانی ایک مہذب اور واجب العمل عمل ہے جو سال میں ایک مرتبہ اتی ہے ہر صاحب استطاعت ادمی پر فرض ہے کہ وہ قربانی کریں اس وجہ سے ہر گھر میں قربانی ہوتی ہے مندرجہ بالا سوال میں اس بات کی وضاحت مقصود ہےکہ جب قربانی خریدی ہے تو اس کی ذبح اپنے ہاتھ سے افضل ہے اگر تم کسی مجبوری کی  بنیاد پر دوسروں سے کرایا تو بھی کوئی حرج نہیں لیکن اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہر حال افضل ہے اس کے بارے میں حضورپاکﷺ کی احادیث مبارکہ موجود ہیں جو اس کے بارے ہمیں وضاحت ملتی ہے کہ حضور پاک نے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہے

 جیسا کہ بخاری کی ایک حدیث میں ذکر ہےکہ

 عن  أ َنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ[2]

اس روایت میں یہ بات بیان ہوئی کہ نبیﷺ نے دو مینڈے اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ایک تو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ قربانی ہر حال میں کرنی ہے دوسری یہ بات کہ قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے

اس طرح دوسری روایت بھی ہے جو جابررضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَوْمَ الذَّبْحِ- كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: >إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ [3]

جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اپ نے عید کے دن قربانی کی دو عدد دھنبوں سے اور قربانی کی طرف اپنا چہرہ کرکے فرمایا  کہ بے شک میرا چہرا اس ذات کی طرف ہے جہنوں اسمانو ںاور زمینوں کو پیدا کیا میں یکساں مسلمان ہو اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں  بے شک میری نماز قربانی زندگی اور موت اللہ کے لئے ہیں جو رب العالمین ہے اور ان کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اور اس کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا ہے  اور میں اول مسلمان یقین کرنے والا ہوں اس حدیث میں قربانی کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بیان ہوئی کہ قربانی نبیﷺ نے اپنے ہاتھ سے کی ہے لہذا قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہےاس کے علاوہ فتاوی ہندیہ والے بھی لکھتے ہیں کی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ

والا افضل ای یذبح اضحیہ بیدہ ان کان یحسن الذبح لان الاولی فی القربات ان یتولی بنفسہ وان کان لا یحسنہ فالافضل ان یتعین لغیرہ ولکن ینبغی ان یشھدھا بنفسہ[4]

 اس حوالے کو دیکھتے ہوئے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے اگر خود ذبح نہیں کرسکتے تو اتنا تو ضروری ہے کہ قربانی کے وقت وہاں حاضر ہو کیونکہ قربانی کی پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے انسان کی مغفرت ہوجاتی ںہے۔

واللہ اعلم باالصواب

[1] : تفہیم القران ج3 ص 227 الناشر ادارۃ ترجمان القران

[2]  : بخاری ج3 ص 2516 حدیث نمبر 5554 باب ضحیۃ النبی ﷺ بکبشین اقرنین ویذکر سمینین م البشری

[3]  :  سنن ابن ماجہ ج1 ص357  ابواب الاضاحی م رحمانیہ

[4]  : فتاوی ہندیہ ج5 ص300 م الحسن

اپنا تبصرہ لکھیں