سوال: نماز میں قراءت والی رکعتوں  اور غیر قراءت والی رکعتوں کی تفصیل کہاں سے ثابت ہے؟ وضاحت کریں۔

سوال: نماز میں قراءت والی رکعتوں  اور غیر قراءت والی رکعتوں کی تفصیل کہاں سے ثابت ہے؟ وضاحت کریں۔

الجواب وبااللہ التوفیق

 جناب  نماز میں قرات والی رکعتوں   میں قرات کرنا حدیث سے ثابت ہے چناچہ  امام بخاری نے اس کے بارے میں ایک حدیث نقل فر مائی ہے

“وعن ابی قتادۃؒ قال ان النبی ﷺ کان یقرء فی الاءولیین من الظھر والعصر بفاتحۃ الکتاب وسورۃ وفی الاخریین منھا بفاتحۃ الکتاب فقط[1]

ترجمہ: ابو قتادہ ؓسے روایت  ہے کہ جناب نبی کریم ؐ ﷺنے ظھر اورعصرکی ابتدائی  دونو ں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ مع السورۃقرءت کی اور اخری رکعتوں  میں صرف سورۃ فاتحہ کی قراءت کی اور سورۃ ضم نہیں کی  یہ حدیث امام مالکؒ کی دلیل ہے جمہور علماء کے نزدیک  قراءت سب رکعات میں فرض ہےحضرت خباب  کی روایت جو رسول اللہؐ سے منقول ہے رسول اللہؐ نے قرات کی ہےنماز ظھر اور عصر میں ۔کسی نے  کہاکہ آپ کوکیسے معلوم ہوا  تو حضرت خباب  نے فرمایا کہ داڑھی کی حرکت کی وجہ سےمعلوم ہوا اور کوفین نے حضرت عبداللہ ابن عباسکی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ قرءات واجب نہیں ہے اخری رکعاتوں میں اس لیے کہ جہری اورسری نماز بالکل علی السویہ تھی کیونکہ بدایۃ المجتھد میں ذکر ہے

” فی السکوت النبی ﷺ فی ھاتین رکعاتین[2]

 اور امام شافعیؒ نے حدیث ابی سعید خدریسے استدلال کیا ہے کہ نبیؐ نے ابتدائی دونوں رکعتوں میں بقدر30آیات قرءات کی ہے۔

اوراخری رکعتوں میں بقدر 15ایات تلاوت کی ہے  یہ حدیث امام احمدؒ  نے بھی نقل فرمائی ہیں [3]

واللہ اعلم بالصواب

[1] : (رواہ البخاری ج2ص260)کتاب الاذان باب یقرء فی رکعتین الاخریین

[2] : بدایۃ المجتھد ص120اور122کتاب الصلاۃ

[3] : مسلم ج 1ص334بدایۃ المجتھدص22 کتاب الصلاۃ

اپنا تبصرہ لکھیں