سوال: مشینی ذبیحہ کا حکم کیا ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق
یہ مسئلہ اس وقت کے ایسے پیچیدہ مسائل میں سے ہے کہ اس کی بابت اطلاقاً کوئی فیصلہ کرنا نہ صرف یہ کہ ممکن نہیں بلکہ درست بھی نہیں ہے
البتہ اتنی بات متعین ہے کہ مشینی ذبیحہ میں اگر اسلامی ذبیحہ کے ارکان وشرائط پورے ہوجاتے ہیں تب تو یہ جائز ہے ورنہ نہیں جائز ۔
مفتی شفیعؒ مذکورہ مسئلے پر کلام کرتے ہوئے رقمطراز ہے
اتنی بات متعین ہے کہ اگر جانور کی عروق ذبح نہیں کاٹی گئیں، یا ذبح کرنے والامسلمان یا کتابی نہیں ہے، یا سب کچھ ہے، مگر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا قصد ا چھوڑ دیا ہے، یا کسی غیر اللہ کا نام اس پر ذکر کیا ہے، تو وہ ذبیحہ حلال نہیں کسی مشین میں شرائط مذکورہ کی خلاف ورزی نہ ہو، تو اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے، اور ان میں سے ایک شرط بھی فوت ہو جائے ، تو ذبیحہ حرام ہو جائے گا۔
اور جب تک صحیح صورت حال معلوم نہ ہو، اس وقت تک مشینی ذبیحہ کے گوشت سے احتیاط کرنا واجب ہے۔[1]
علامہ محمد تقی عثمانیؒ مذکورہ مسئلے پر کلام کرتے ہوئے رقمطراز ہے مشینی ذبح کے طریقہ کار میں تھوڑی سے ترمیمات سے اس کو شریعت کے مطلق بنایا جاسکتا ہے اور وہ ترمیمات مندرجہ ذیل ہیں
پہلی ترمیم
پہلی ترمیم یہ ہے کہ ٹھنڈے پانی میں بجلی کا کرنٹ نہ چھوڑا جائے، یااس بات کا یقین حاصل کر لیا جائے کہ اس کے نتیجے میں اس مرغی کے دل کی حرکت بند نہ ہو جائے۔
دوسری ترمیم
اس مشین سے چھری نکال دی جائے اور اس کی جگہ پر چند مسلمان یا اہل کتاب کھڑے کئے جائیں ۔ جب مرغیاں ان کے سامنے سے گزریں تو ان میں سے ہر ایک باری باری ہر مرغی پر تسمیہ پڑھتے ہوئے ان کو ذبح کرے، جس کا تفصیلی طریقہ میں نے پیچھے عرض کر دیا، اور مسلمانوں کے مطالبہ کرنے پر بڑے بڑے مذبح خانوں کے حضرات نے اپنے ہاں یہ طریقہ جاری کیا ہے اور اس کی وجہ سے ان کی پیداوار کی تعداد میں بھی کمی واقع نہیں ہوئی۔
تیسری ترمیم
اس بات کا یقین ہونا ضروری ہے کہ جس گرم پانی سے مذبوحہ مرغیوں کو گزارا جاتا ہے وہ غلیان کی حد تک گرم نہ ہو۔ مندرجہ بالا تین ترمیمات کے بعد مشین سے ذبح شدہ مرغیاں حلال ہوں گی۔
مشینی ذبحہ کا طریقہ :
جہاں تک چو پائے یعنی گائے اور بکری جیسے بڑے جانوروں کے مشین سے ذبح کا تعلق ہے تو اس کا طریقہ مرغی کے ذبح کے طریقے سے مختلف ہے ۔اس میں مشینی چھری کے ذریعہ جانور کی روح نہیں نکالی جاتی ،بلکہ ایسے اعمال کے ذریعہ اس کی روح نکلتی ہے جس کو انسان انجام دیتا ہے
ان اعمال میں سے ایک عمل “دم گھونٹنا” ہے یہ بدیہی بات ہے کہ اس طریقہ سے ذبح شدہ حیوان – منخنقة ” میں داخل ہے جس کی حرمت قرآنی کریم میں منصوص ہے۔
لیکن آج کل اکثر مذبح خانوں میں گلے کے ایک حصہ کو کاٹ کر یا گردن کو کاٹ کر اور اس کا خون بہا کر ذبح کا عمل مکمل کیا جاتا ہے مگر چونکہ حیوان کو زخمی کرنے کے متعدد طریقے رائج ہیں۔ اس لیے ہم یقینی کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا ان کے ذریعہ رگیں کٹ جاتی ہیں یا حیوان کو گردن کے علاوہ دوسری جگہ سے کاٹا جاتا ہے ، اور جانور اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک یہ یقینی نہ ہو جائے کہ اس کے گلے کی تمام رگیں۔ کاٹ دی گئی ہیں جن کا کاٹنا شرعاً واجب ہے۔ لیکن ان مذبح خانوں کے ذبیحہ میں محل بحث بات یہ ہے۔ کہ وہ لوگ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ ذبح کے عمل کو شروع کرنے سے پہلے پالتو جانور کو بے ہوش کریں یا اس کو سُنی کر دیں، اور ان کی نظر میں ذبح کے وقت جانور کی بے ہوشی کا یہ عمل حیوان کو راحت پہنچانے کے لئے اور اس کی تکلیف کو کم کرنے کے لئے واجب ہے ذبح کرنے سے پہلے جانور کو مختلف طریقوں سے بے ہوش کیا جاتا ہے۔ پہلا طریقہ جو بکثرت اختیار کیا جاتا ہے وہ پستول کے ذریعہ بے ہوش کرنا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حیون کی پیشانی پر ایک بڑا بھاری ہتوڑا مارا جاتا ہے۔ بے ہوش کرنے کا تیسرا طریقہ ، گیس ” کا استعمال ہےچوتھا طریقہ کرنٹ کے جٹھکے” کا استعمال ہے۔ مفتی صاحب نے اس مسئلے پر مفصل کلام کرنے بعدیہ فیصلہ صادر فرمایا ہے ۔
بہر حال یہ موضوع دیندار غیرت مند اور اس فن کےماہر مسلمانوں کے عمیق غور و حوض کا محتاج ہے۔ چونکہ یہ موضوع میرے دائرہ اختیار سے خارج ہے اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنامیرے لئے مناسب نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کر بے ہوش کرنے کے مندرجہ بالا طریقے اگر جانور کی موت واقع ہونے کا سبب بنتےہیں، یا ان طریقوں کے اختیار کرنے سے جانور کی موت واقع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے تب تو ان طریقوں کو اختیار کرنا جائز نہیں اور بے ہوش کرنے کے بعدذبح کئے گئے جانور کو حلال نہیں کہا جائے گا اور جب یہ طریقے مشکوک ہیں اس وقت تک ان سے دور رہنا ہی مناسب ہے مشہور یہ ہے کہ “یہود”بے ہوش کرنے کسی طریقے قبول نہیں کرتے پھر تو مسلمان کو شبہات سے اور ذیادہ دور رہنا چاہئے[2]
حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ فتاوی محمودیہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے رقمطراز ہے ، مشین کا ذبیحہ تو ظاہر ہے شرعی ذبیحہ نہیں [3]
مشینی ذبیحہ کو اہل علم نے صحیح قرار نہیں دیا اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہئے [4]
فقط
واللہ اعلم با لصواب
[1] : جواھر الفقہ ج 6 ص 229 الناشر مکتبہ دارالعلوم کراچی
[2] : فقہی مقالات ج 4 ص 280 تا 289 الناشر میمن اسلامیہ پبلیشرز
[3] : فتاوی محمودیہ ج 17 ص 232 الناشر ادارہ الفاروق کراچی