سوال: آج کل بالوں کا جو کاروبار رائج ہے کیا انسانی اعضاء کا بیچنا جائز ہے؟

سوال: آج کل بالوں کا جو کاروبار رائج ہے کیا انسانی اعضاء کا بیچنا جائز ہے؟

الجواب و باللہ التوفیق

اللہ تعالیٰ نےانسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے اورانسان کو اپنا خلیفہ کے نام سے یاد کیاہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ار شاد ہے۔ “وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ إِنِّی جَاعِل فِی ٱلۡأَرۡضِ خَلِیفَۃۖ ([1])

اور دوسری جگہ  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔”وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِیۤ ءَادَمَ ([2])

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے بنی آدم کو عزت و تکریم سے نوازا ہے۔تو انسان اپنے کل اجزاء کے ساتھ محترم ہے۔انسانی جسم کے اعضاء و اجزاء کی خرید و فروخت اس مقتضیٰ کی خلاف ورزی ہے۔باقی رہا انسانی بالوں کی خرید و فروخت ،تو فقہاءاسلام نے ان نصوص کی روشنی میں اسکی حرمت پر تصریح کی ہے۔

چنانچہ ” الموسوعۃ الفقہیۃ”(الکویتیۃ) میں لکھا ہیں ،”واتفق الفقہاء علی عدم جوز الانتفاع بشعر الآدمی بیعا و استعمالا۔لان الآدمی مکرم لقولہ سبحانہ و تعالیٰ :و لقد کرمنا بنی آدم ،فلا یجوز ان یکون شیئ من اجزائہ مھانا مبتذلا۔”([3])

 طرح   “ہدایہ “میں ہےکہ””لایجوز بیع شعور الانسان ولا انتفاع بہ لان الآدمی مکرم لا مبتذل فلا یجوز ان یکون شیئ من اجزائہ مھانا مبتذلا”۔([4])

کہ انسان کے بال سے نہ انتفاع جائز ہے  نہ اس کی خرید وفروخت جائز ہےکیونکہ انسان محترم و مکرم ہے،قابل صرف اور بکاؤ مال نہیں ،پس یہ جائز نہیں کہ اس کے اجزاء میں سے کسی بھی جزء کو ذلیل کیا جائےیا استعمال کیا جائے۔

اس کے علاوہ اکثر علماء کرام نے رسول اللہﷺکے حدیث “لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ”میں بھی موجب لعنت چیز ٹہرائی ہے کہ اس میں انسانی بالوں سے نفع اٹھایا جاتا ہے ،جیسا کہ “ہدایہ”میں ہے،اور علامہ عینی حنفی  “البنایۃ”میں اس کی تائید کرکے لکھتے ہیں:”لان المدعی عدم جواز البیع و عدم جواز الانتفاع بہ و استحقاق اللعن فی الوصل یدل علی جواز الانتفاع بہ و عدم جواز الانتفاع یدل علی جواز البیع۔”([5]

البحر الرائق میں علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں  کہ  شعر الانسان ولا انتفاع به ايلم يجز بيعه ولا انتفاع لان الادمي مكرم[6]

مجمع الانھار میں لکھا گیا ہے کہ”ولا یجوز بیع شعر الآدمی ولا انتفاع بہ،ولا بشئی من اجزائہ لان الآدمی مکرم غیر مبتذل”([7])

اس عبارت کی وضاحت یہ ہے،کہ عورتوں کا اپنے بالوں سے دوسرے بال لگانے پر لعنت کا مستحق ہونا اس چیز پردلالت کرتی ہے کہ ان بالوں سے نفع اٹھانا جائز نہیں (کیونکہ اس میں انسانی بالوں کو بروئے کار لائی جاتی ہے)،اسی طرح یہ نفع اٹھانے کا ناجائز ہونا ان بالوں کے خرید و فروخت کے ناجائز ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

اس کے علاوہ عورتوں کے بال عورت بھی ہے یعنی غیر محرم کا اس کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے،اگرچہ یہ بال ان کے سر سے جدا کیوں نہ ہو جائے۔(دیگر اعضاء کی طرح)

چنانچہ “الموسوعۃ الفقہیۃ” میں لکھا  ہے کہ “و ذھب  الحنفیۃ والشافعیۃ الی القول بعدم جواز النظر الیہ وان کان منفصلا[8]

پس خلاصہ یہ ہوا کہ عورتوں کے بال کی خرید وفروخت توہین انسانیت اور بے حیائی کے زمرے میں آتا ہے ۔

لہٰذا حرام اور ناجائز ہے۔

وللہ اعلم بالصواب

[1] :  البقرۃ آیت30

[2]  : بنی اسرائیل آیت70

[3] : الموسوعۃ الفقہیۃ ج 26، ص:102 الناشر انوار القران

[4] : ہدایہ ج 3 ص  57 کتاب البیوع باب بیع الفاسد  الناشر مکتبہ رحمانیہ

[5] : البنایۃج:7 ص:222 مکتبہ دار الفکر بیروت

[6] :  ا لبحر الرائق ج 6 ص 133 کتاب البیوع باب بیع الفاسد ط رشیدیہ کوئٹہ

 [7]:   مجمع الانھار ج 3 ص 85 کتاب البیوع باب بیع الفاسد طبع غفاریہ کوئٹہ

[8] : الموسوعۃ الفقھیہ ج 26 ص 107 لناشر انوار القران کتب خانہ

اپنا تبصرہ لکھیں