سوال: ادویات پر زکوٰة واجب ہے یا نہیں ؟
الجواب و باللہ التوفیق
ادویات کی زکوٰۃ اس کی قمیت پر لازم ہے مال تجارت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو اوراس پر سال گزر جائے اس مال میں زکوٰة ادا کرنا واجب ہے اگر ادویات فروخت کرنے کی نیت سے خریدی گئی ہو تو اس پر زکوة واجب ہوگی۔
مولانا مفتی سید نجم الحسن لکھتے ہیں”تجارت کے لئے جو ادویات ہے اگر اس کی مالیت کا بقدر نصاب ہو تو سال گزرنے کے بعد اس کی زکوۃ ادا کرنا آپ پر واجب ہے ادائیگی زکوةکی دو صورتیں ممکن ہیں بہتر صورت یہ ہے کہ آپ ہر قسم کے ادویات کی دوکانوں کی ریٹ کے حساب سے قیمت لگا کر زکوٰۃ ادا کرے اور اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو پھر اندازے سے ہر قسم کے ادویات کی قیمت لگا کر زکوٰۃ ادا کرے۔([1])
مولانا مفتی غلام الرحمن لکھتے ہیں :مال تجارت اگرساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس مال میں زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے اگر میڈیسن دکان میں موجود مال تجارت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہے واضح رہے کہ سامان تجارت کی مالیت کا پورا سال بقدر نصاب باقی رہنا شرط نہیں بلکہ سال کے ابتدا اور انتہا میں اگر اس کی مالیت بقدر نصاب ہو تو زکوۃ لازم ہوگی جس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ اس سارے مال کی بازار میں قیمت فروخت کا اندازہ کرکے چالیسواں حصہ بطور زکوۃ فقراء اور مساکین کو دیا جائے گا ([2])
البحر الر ائق میں لکھا گیا ہے ”وفی عروض تجارةبلغت نصاب ودق أوذھب معطوف على قوله فى مأتى درھم أى يجب ربع العشر فى عروض،التجارة أذبلغت نصابا ([3])
المبسوط میں لکھا گیا ہے کہ :”وجه رواية الكتاب ان وجوب الزكوة فى عروض التجارة باعتبار ما لتيھا دون اعيانه والتقويم لمعرفة مقدار المالية([4])
مولانا مفتی حمید اللہ جان صاحب لکھتے ہیں:جب ڈسپنسری میں موجود دوائیوں پر سال گزر جائے تو مارکیٹ سے اس کی قیمت معلوم کرلی جائے اور اس کے مطابق زکوۃ ادا کریں اور زکوٰۃ میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا ([5])
واللہ اعلم بالصواب
پیشگی زکوٰ ۃکاحکم کیا ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق
پیشکی زکوٰۃ کا حکم یہ ہے کہ ایک آدمی صاحب نصاب ہے اورمال اس کی ملک میں ہے اور سال کے پورا ہونے سے پہلےزکوٰۃاداکرے توجائزہے تو سال کے پورا ہونے پر اس کومحسوب کرلیاجائےچنانچہ فتاوی ٰھندیہ میں ہے-
نصاب کے مالک ہو نےکے بعد تعجیل زکوٰۃ اداکر ناجائز ہے اوراس سے پہلے جائز نہیں ہے بیشک تعجیل زکوٰۃ جا ئزہے تین شرائط کے ساتھ- پہلی شرط یہ ہے زکاۃ کی ادائیگی کے وقت مالک ہونا-دوسری شرط یہ ہے نصاب سال کے دوران بالکلیہ ختم نہ ہو جائے تیسری شرط یہ ہے کہ جس نصاب کی زکوٰۃ پیشکی ادا کی ہے وہ نصاب سال کے آخر میں پوراہو-
بدائع الصنائع میں ہے
واما شرائط الجواز فثلاثۃ-احدھما کمال النصاب فی اول الحوال والثانی کمالہ فی آخرالحول والثالث ان ینقطع النصاب فیمابین ذلک حتیٰ لو عجل ولہ فی اول الحول اقل من النصاب ثم کمل فی آخرہ فتم الحول والنصاب کامل لم یکن المعجل زکاۃ بل کان تطوعا وکذا لو عجل والنصاب کامل ثم ھلک نصفہ مثلا فتم الحول والنصاب غیر کامل لم یجز التعجیل وانما کان کذلک لان المعتبر کمال النصاب فی طرفی الحول[6]
تعجیل زکوٰۃکے جواز کے لیے تین شرائط ہیں –پہلی شرط یہ ہے سال کے اول میں کامل نصاب ہو نا دوسری شر ط یہ ہے کہ سال کے آخر میں کامل نصاب ہو نا- تیسری شرط یہ ہے کے سال کے دوران میں نصاب منقطع نہ ہوا ہو یہاں تک کہ اگر اس نے جلدبازی کی اور سال کے اول میں نصاب سے کم ہے اور پھر سال کے آخر میں کامل ہو گیا اوراس پر حولان حول پورا ہوا اور نصاب کامل ہو تو معجل نے زکوٰۃادانہیں کی بلکہ نفل صدقہ ہے اور پھر اسی طرح جلدبازی کی اور نصاب کامل ہو اور اس سے نصف ہلاک ہوا مثال کے طور پر پھر اس پر سال پورا ہوا اورنصاب پورا نہیں ہے تو تعجیل جائز نہیں ہےپھر اس طرح نفلی صدقہ ہے کامل نصاب ہونا سال کےدوران معتبر ہے- لہذا اس سے معلوم ہوا کہ پیشکی زکاۃ اداکر ناجائزہے اور افضل یہ ہے کہ اس میں تعجیل نہ کرے-چنانچہ بحرا لرائق میں ہے
ولایخفی ان الافضل لصاحب المال عدم التعجیل للاختلاف فی التعجیل عندالعلماء[7]
اور ظاہر ہے کہ افضل طریقہ یہ ہے کہ قبل الوقت زکوٰۃ ادا نہ کی جائے کیونکہ علماء کرام کا تعجیل میں اختلاف ہے لہذا بے غبار راستے کو اختیار کیا جائے
واللہ اعلم باالصواب
[1] نجم الفتاوی ج 3 ص 64 مکتبہ یاسین القرآن
[2] فتاوی عثمانیہ ج 3 ص 444 تا445 مکتبہ العصر اکیڈمی
[3] البحر الرائق کتاب الزکوةالمال ج2ص398مکتبہ رشیدیہ
[4] المبسوط ج2ص 25
[5] ارشاد المفتین ج 5 ص 303 مکتبہ الحسن
[6] بدائع الصنائع ج2ص165م دارالکتاب
[7] بحرالرائق ج2 ص393