جامعہ عالیہ احیاء العلوم بلامبٹ ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد ایسے علماء دین تیار کرنا ہے جو فرقہ واریت اور گروہ بندی کے تعصبات سے پاک ہوں ،اپنے علم کو اصلاح نفس اور اصلا ح معا شرہ کے لئے استعمال کرتے ہوں،اتحاد امت کے لئے کام کرتے ہوں،دعوت دین اور اقامت دین کے لئے جدو جہد کرتے ہوںاور تحقیق وتفقہ کا ذوق وشوق رکھتے ہوںـ
اس ادارے کےمختلف شعبے ہیں جو ایک مربوط نظم واہتمام کے تحت کام کر رہے ہیں،ان شعبو میں سے ایک شعبہ،شعبئہ تخصص اور افتاء ہےـ
فتوی کا انسانی زندگی اور معاشرہ سے انتہائی گہرا تعلق ہے۔فقہ وفتاویٰ سے انسانی زندگی کے شب و روز معاشرہ کے نشیب وفراز میں نہ یہ کہ صرف رہنمائی ملتی ہے ، بلکہ اس سے معاشرہ کوحرکت اور جذبہ بھی نصیب ہوتی ہے ۔ موجودہ دور میں فتویٰ کی معنویت اور افادیت اور اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں تجارت ، ملازمت اور صنعت و حرفت اور ایجادات کی نئی نئی شکلوں نے جنم لیا ہے
ایک شخص اپنے آپ کو مسلمان بھی کہے یعنی وہ ایک مکمل نظام حیات کا پابند بھی ہو اور اسے اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں فتویٰ کی ضرورت پیش نہ آئے ایسا ممکن ہی نہیں بلکہ عقائد ، عبادات، معاملات ، معاشرت اور اخلاق و اعمال میں سینکڑوں ایسے مواقع آتے ہیں جہاں اسے فتویٰ کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے اور یقینی طور پر وہ فقہاء عظام اور مفتیان کرام کی رہبری کا محتاج ہوتا ہے جو اس کو قرآن وسنت کے حکم سے آگاہ کرتے رہینگے ۔
اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئےجامعہ عالیہ احیاءالعلوم بلامبٹ کے انتظامیہ نے شعبہ تخصص فی الفقہ الاسلامی والافتاء سال 2020 میں آغاز کیا اس شعبہ کی بنیاد بھی استاذ محترم مفتی عبدالودود صاحب جامعہ حنیفیہ کراچی اورتفہیم القرآن مردان کی طرح یہاں بھی رکھی۔
یہاں طریقہ کار تخصص کا کچھ اس طرح ہے کہ
جب کہ آخری حصے میں مختلف فقہی موضوعات پر مقالے لکھوائے جاتے ہیں اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں
جو درجہ ذیل مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اصول افتاء شرح عقود رسم المفتی،ادب المفتی والمستفتی آداب فتاوی نویسی ،قواعدالفقھیۃ المیسرۃ، علم الرجال، السراجی فی المیراث، آداب البحث والمناظرہ ،اصول تحقیق ،علوم آلقران ،قواعدالتفسیر ،جدید معاشیات ،جدید فقہی مسائل وغیرہ
یہ تمام تر جدید فقہی مسائل پر محاضرات پروجیکٹر(projector) کی مدد سے پڑھائے جاتے ہیں ۔
جس میں درجہ ذیل کتب شامل ہیں ۔
البدایۃ المجتھد،المجلۃالاحکام العدلیۃ ،فتاویٰ حقانیہ ،رسائل ومسائل،تفھیم المسائل ،احکام القرآن للجصاص،بدائع الصنائع ، المغنی اور المحلیٰ شامل ہیں ۔ان کے مطالعہ کی ترتیب کچھ اس طرح ہوتی ہے ۔
کہ ہر ہفتے کا نصاب تیار کیا جاتاہے اور پھر طلباءکوتین گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور پھرہربدھ کے دن ہر طالب العلم سے استاذمحترم ان کا مطالعہ سنتے ہیں ۔ہرطالب العلم کے حصے میں تقریبا 500 صفحات آتے ہیں یوں ہی مفتیان کرام مطالعہ کرنے پر امادہ ہوتےہیں ۔
زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تمرینات محترم مفتی صاحب ہر شام دے دیا کرتے ہیں اور پھر ہر طالب العلم کے ذمے لازم ہے کہ صبح تک وہ حل کریں ۔تمرینات کے حل میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ مسائل کے حل میں اسلام کا جو منہج تحقیق ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئےمسائل حل کئے جاتی ہیں۔لہذا امہات الکتب پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔بطورخاص سب سے پہلے مسئلہ قرآن وحدیث،صحابہ کرام کے اقوال اور ماہرین شریعت ائمہ کرام کی اراء کی روشنی میں مسئلو ں کی وضاحت کی جا تی ہے۔موجودہ تمرینات بھی اس سلسلے کی کڑی ہے ۔
کسی بھی موضوع پر مختلف فقہی موضوعات پر تحقیقی اور علمی انداز میں مقالے لکھوائے جاتے ہیں۔
تو بندہ ناچیز نے جو تمرینات اور استفتاٰت سال 2022/2021 میں حل کئے تھے ان کو مرتب اور کمپوز کرنے کی کوشش کی ہے۔ میری اس مختصر سی کوشش کی وجہ یہی تھی کہ اس کے ذریعے عوام الناس کو فائدہ پہنچ جائے اور صدقہ جاریہ ہوجائے ۔
اللہ تعالیٰ ہمارے استاذ محترم مفتی عبدالودود صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ فرمادے کہ انہوں نے ہماری بھر
پور راہنمائی کی ۔میں دلی خلوص سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کا علم حاصل کرنے،دوسروں کو پہنچانے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین