میرے پاس زمین کا ایک قطعه ہے، میں نے مکان بنانے کی غرض سے خریدا تھا. کچھ عرصہ بعد مجھے اسے بیچنے کی ضرورت پڑ گئی۔کیا مجھ پر اس مدت کی زکوٰۃ ہے جس میں میں نے اس قطعہ کو فروخت کے لیے پیش نہیں کیا؟
الجواب وباللہ التوفیق
جو زمین مکان بنانے کی غرض سے خریدی تھی. کچھ عرصہ بعد تجھ کواس کو بیچنے کی ضرورت پڑ گئی توآپ پر اس مدت کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ صرف فروخت کرنے کی نیت سے وہ پلاٹ تجارتی نہ ہوگی اور ایسی صورت میں ایسے پلاٹ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی. چونکہ اس پلاٹ خريدتے وقت حتمی طور پر تجارت کی نیت نہیں تھی، لہٰذا یہ جائیداد تجارتی مال میں شامل نہیں ہوگی، اور اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔چناچہ السنن الکبری للبیہقی میں لکھا ہے:
عن ابن عمر قال: ليس في العروض زكاۃ الا عرض في تجارۃ فان فيه زكاۃ ([1] )
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے. وہ کہتے ہیں۔ جو سامان تجارت کے لئے ہو. اس میں زکوۃ ہے. اور جو سامان تجارت کے لیے نہ ہو. اس میں زکوٰۃ نہیں ہے۔فتاوى التاتارخانيه میں لکھا ہے”تم نيۃ التجارۃ لا تعمل مالم يضم اليه الفعل بالبيع والشراء السوم فیما یسام” ([2] )
مصنف ابن ابي شيبه میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی روایت ہے”عن ابن عمر قال: ليس في العروض زكاۃ. الا عرض في التجاره فان فيه زكاۃ”([3] )
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں. کہ جوسامان تجارت کے لیے نہ ہو اس میں زکوٰۃ نہیں ہے۔اور جو سامان تجارت کے لیے ہو اس میں زکوۃ ہوگی۔
رد المحتار میں علامہ شامیؒ لکھتے ہیں۔”اشتري شيئا للقنيۃ ناويا انه وجد ربحا باعه لا زكوٰۃ عليه” ([4] )
رد المختار میں لکھا ہے”وشرط افتراض ادائها حولان الحول وهو فی ملكه او نیة التجارۃ في العروض”( [5])
یعنی زکوٰۃ ادا کرنے میں حولان الحول شرط ہے لیکن وه چیز تجارت کے لئے ہوگی۔
ہدایہ میں لکھا گیا ہے۔ ومن اشترى جاريۃ للتجارۃ و نواها للخدمۃ بطلت نكنا عنها الزكاۃ للاتصال النيه بالعمل وهو ترك التجارۃ وان نواها للتجارۃ بعد ذلك لم تكن للتجارۃ في بيعها فيكون في ثمنها زكوة لان النيۃ لم تتصل بالعمل اذ هوا لم يتجر تعتبر”( [6])
جس شخص نے ایک باندی کاروبار کی نیت سے خریدی اور بعد میں اسے اپنے پاس ہی خدمت کے لئے ركهنے کی نیت کرلی تو اس سے زکوٰۃ کا حکم باطل ہو جائے گا۔ کیونکہ اس جگہ نیت عمل کے موافق واقع ہوگئی یعنی کاروبار کی خیال کو چھوڑ دیا۔ اور اگر اس کے بعد پھر اس میں کاروبار کی نیت کرلی تو وہ بھی تجارت کی نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ اسے بھیچ دیں تو اس کی قیمت میں زکوٰۃ لازم آئے گی کیونکہ اس کی نیت عمل سے متصل نہیں ہوئی ہے۔ کیونکہ اس نے تجارت نہیں کی ہے۔یعنی صورت مسئولہ میں جب یہ پلاٹ رہنے کے لئے خریدا گیا بعدمیں بیچنے کی ضرورت پڑی. یعنی بیچنے کی نیت کرلی تو صرف نیت سے وہ مال تجارت نہیں بنے گی۔ اور فی الحال اس سے زکوٰۃادا کرنا لازم نہیں ہوگی۔
واللہ اعلم بالصواب
میرے پاس ایک پلاٹ ہے جو میں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر خریدا تھا اور دونوں کا برابر یعنی آدھا آدھا ہے ، میرے دوست مالی اعتبار سے بہتر حیثیت رکتے ہیں اس لئے وہ ہر سال باقائدگی سے اپنے حصے کی زکوٰۃ اداکردیتے ہیں ۔ میں مالی حیثیت میں کمزور ہوں اور جو کچھ بھی کما تاہوں وہ گھر کی ضروریات میں خرچ ہو جاتا ہے اس لئے اب تک زکواۃ ادا نہیں کرسکا ، قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ میرے لئے کیا حکم ہے ۔
جبکہ میں اس پلاٹ کی رقم کے مقابلے پانچ ، چھ گنا مقروض ہوں ، مثلا : پلاٹ میں میرا / ٠٧ ہزار روپیہ لگا ہے اور میں تقریباً چار لاکھ کا ، مقروض ہوں ، معاشی حالات اچھے نہ ہونے کے سبب قرض ادا کر رہاہوں ۔
اس صورت حال میں کیا میرے اوپر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ ۔
الجواب ومنہ الصدق والصواب ؛
سب سے پہلے تو ہم دعا گو ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ : آپ کو قرض سے نجات عطاءفرمائے اور آپ کی مالی اور معاشی حالات کو بہتر بنائے ۔
اب جواب ملاحظہ فرمائے ۔
پلاٹ پر زکوٰۃ تب ہوتی ہے کہ جب اسے تجارت کی نیت سے خریدا جائے ، اگر ذاتی رہائش کے لئے خریدا جائے تو پھر کتنا بھی عرصہ پڑا رہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی ۔ اگر آپنے تجارت کی نیت سے خریدا ہے تو چند شرائط جو زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہیں ۔
شرائط وجوب زکوٰۃ دو قسم پر ہے : ایک وہ جو اس شخص کی طرف راجع ہو تے ہیں جو زکوٰۃ اداکرنے ولا ہو اس میں درجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے
( ١ ) مسلمان ہونا ( ٢ ) بلوغ ( ٣ ) عقل ( ٤ ) حریت ( ٥ ) مقروض نہ ہو نا ، یعنی اگر قرض اصل مالیت سے زیادہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں ،
یا مساوی مقروض ہو ، یا اتنا مقروض ہو کہ قرض کی ادائیگی کے بعد وہ صاحب نصاب نہیں تو ان سب صورتوں میں زکوٰۃ نہیں ہوگی ۔
( ٦ ) زکوٰۃ کی فرضیت کا علم ہو ۔
دوسرے وہ شرائط جو مال کی طرف راجع ہو تے ہیں وہ درجہ ذیل ہیں ۔
( ٧ ) مِلک ( ٨ ) مال کا نامی ہو نا ( ٩) مال کاحاجات اصلیہ سے زائد ہو نا ( ٠١ ) نصاب کا مالک ہو نا ( ١١ ) حولان حول یعنی سال کا گزرنا ۔
ہدایہ میں ہے کہ : ومن کان علیہ دین یحیط بمالہ فلا زکواۃ علیہ ۔۔۔ واِن کان مالہ اکثر من دینہ زکّی الفاضل اِذا بلغ نصابًا بالفراغۃ عن الحاجۃ۔[7]
یعنی جس پر قرض ہو اور قرض اس کی اصلی مالیت کے برابر ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں اور اگر اس کی اصلی مالیت قرض سے زیادہ ہو تو فاضل کی زکوٰۃ ادا کرے ، بشرطیکہ یہ فاضل مال حاجت سے فارغ ہو کر نصاب تک پہنچ جائے ۔
اور دکتور وھبۃ الزحیلی فرماتے ہیں : ویمنع الدین اذا کان یستغرق النصاب ولا یجد ما یقضیہ سوی النصابًا ۔ [8]
لہذا آپ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
واللّٰہ أعلم بالصواب
کیا میں اپنے مال کی زکوٰۃ سے اپنی والدہ اور اپنے بھائی کو دے سکتا ہوں میرے پاس اتنا مال ہے جس میں زکوٰۃ واجب ہے ۔اس رقم میں ایک قسم وہ ہے جو مجھ پر قرض ہے جو میں نے مؤسسة عامہ جو بلا سود پیشگی قرضے دیتا ہے لیا تھا ۔ اس قرض پر اور باقی رقم پر سال کا عرصہ گزر چکا ہے تو کیا اس رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی جو میرے ذمہ فرض ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق
زکوٰۃ اصول یعنی (والدین ،دادا،دادی)اور فروع یعنی(اولاد ،پوتے،پڑپوتے)اور بیوی کو نہیں دی جاسکتی اس کے علاوہ باقی رشتہ دار اگر زکوٰۃ کے مستحق ہیں تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز بلکہ افضل ہے کیونکہ اس میں صلہ رحمی ہے ۔ رسول اللہﷺنے رشتہ داروں کو صدقہ دینا افضل قرار دیا ہےچناچہ سنن دارمی میں حضرت حکیم بن حزام ؓ کی روایت ہے “عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الصَّدَقَاتِ أَیُّہَا أَفْضَلُ قَالَ عَلَی ذِی الرَّحِمِ الْکَاشِحِ ۔ [9] ابن عباس کا قول ہے کہ رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے بشرطیکہ کہ وہ آپ کے کفالت میں نہ ہو ‘عن ابن عباس رضي الله عنه قال لا بأس ان تجعل زكاتك في ذو قرابتك ما لم يكونوا في عيالك” ([10])
فتاویٰ تاتارخانیہ میں لکھا گیا ہے ۔” وفى العون : رجل يعول أخته اؤ اخاه أو عمه أو عمته فأراد أن يعطيه الزكاة ان لم يكن فرض عليه القاضى نفقته جاز “ ([11])
فتاوی ہندیہ میں لکھا گیا ہے ۔” والافضل في الزكاة والفطر والنظر والصرف اولا الى الاخوه والاخوات “([12])
اب وہی بات موئسسة العامہ سے لینے والے زکوٰة کا حکم ۔ جو ما ل آپ کے ذمہ قرض ہے اس کی زکوٰۃ دینا آپ پر نہیں بلکہ اصل مالک یعنی دائن پر فرض ہے اگر ادھار کے علاوہ باقی مال نصاب کو پہنچ جاتا ہے تو اپ پر زکوٰۃ واجب ہے ۔جسطرح حدیث میں آتا ہے
” أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَ یَقُولُ : ہَذَا شَہْرُ زَکَاتِکُمْ، فَمَنْ کَانَ عَلَیْہِ دَیْنٌ فَلْیُؤَدِّ دَیْنَہُ، حَتَّی تَحْصُلَ أَمْوَالُکُمْ، فَتُؤَدُّونَ مِنْہُ الزَّکَاۃَ۔ ([13])
کہ حضرت عثمان حکم دیتے تھے کہ یہ زکوٰۃ کا مہینہ ہے جس پر قرض ہو اس کو ادا کرے تاکہ مال کا مالک ان سے زکوٰۃ ادا کرے ۔اسطرح فتاوٰی تاتارخانیہ میں لکھا گیا ہے ۔الملک التام ان یکون ملکہ ثابتا من جمیع الوجوہ ،ولا یتمکن النقصان فیہ بوجہ کما فی المدون۔[14]کہ وجوب زکوٰۃ کے لئے ملک کا تام ہونا ضروری ہے جس میں کس قسم کا نقصان نہ ہو جسطرح مدیون کے مال میں نقصان موجود ہے یعنی ادھا ر کے بغیر اگر مال نصاب کو نہیں پہنچتا تو اس شخص پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے
واللہ اعلم بالصواب
[1] :السنن الكبرى للبيهقي كتاب الزكاه باب زكاه التجاره, جلد 4 صفحہ 147،ادارۃ تألیفات اشرفیہ
[2] :الفتاوى التاتارخانيه،ج 3،ص 166،مکتبہ عزیزیہ
[3]: المصنف لابن ابي شيبه كتاب الزكاه ،ج6 ،ص526،ادارۃ تألیفات اشرفیہ
[4]: رد المحتار مع الدر المختار،ج 3، ص 195
[5]: الدر المختار ج 3 ص 186
[6]: عين الهدايه جديد كتاب الزكاه ج 3 ص 48
[7] :الھدایہ/ج1/ص186
[8] :الفقہ الاسلامی وأدلتہ/ج2/ص748
[9] سنن الدارمي من كتاب الزكاة باب الصدقة على القرابة . رقم الحديث 1721
([10])المنصف ابن أبى شيبة رقم الحديث 10633
([11])فتاوی تاتارخانیہ كتاب الزكاة ج 3 ص 220
([12])فتاوی الهنديه كتاب باب التاسع فى المصارف .. ج 1 ص 190
([13])الموطأ أمام مالك . كتاب الزكاة . باب الزكاة في الدين . ص 85 رقم الحدیث 685
[14] فتاوی تاتارخانیہ ج3 ص 134م عزیزیہ