سوال : کیا میں اپنا پنشن فروخت  کر سکتا ہوں یا نہیں  رہنمائی فرمائے؟

سوال : کیا میں اپنا پنشن فروخت  کر سکتا ہوں یا نہیں  رہنمائی فرمائے؟

الجواب وباللہ التوفیق

سب سے پہلے بات یہ ہے کہ پنشن  کیا چیز ہے تو یہ در حقیقت اس خدمت اور ملازمت کا صلہ ہے  جو کسی ملازم کو ملازمت سے فراغت کے بعد گھر پر ملتا ہے اور یہ شرا ئط ملازمت کی وجہ سے ملازم کا حق ہے اس کے بیچنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ حکومت کے علاوہ کسی دوسرے پر فروخت کیا جائے  یہ صورت جائز  نہیں  کیو نکہ یہ تو بیع الغائط اور بیع ما لیس عندک ہے وجہ یہ ہے کے پنشن تو ابھی ملازم نے حاصل نہیں کیا ہےتو و کیا چیز فروخت کرتاہے  اور بیع ما لیس عندک سے حدیث میں منع آیا ہے ۔

عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ ثُمَّ أَبْتَاعُهُ لَهُ مِنْ السُّوقِ قَالَ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ۔[1]

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم  ﷺ  سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے ایسی چیز بیچنے کا مطالبہ کرتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی ۔ میں اس سے اس کا سودا کر لیتا ہوں ، پھر میں اسے بازار سے خرید کر لا دیتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ جو چیز تیرے پاس نہیں ، اس کا سودا نہ کر ۔‘‘

جس  کی ممانعت   پرفقہاءکرام نے بھی تصریح کی ہے”وَأَجْمَعْنَا عَلَى أَنَّهُ لَوْ بَاعَ عَيْنًا حَاضِرَةً غَيْرَ مَمْلُوكَةٍ لَهُ لَا يَجُوزُ، وَإِنْ مَلَكَهَا فِيمَا بَعْدُ وَلَوْ كَانَ كَمَا زَعَمَ لَجَازَ”[2]

علامہ کاسانی بدائع الصنائع میں لکھتے ہے: وَمِنْهَا) وَهُوَ شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ، وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِوَجْهٍ مِنْ الْوُجُوهِ إلَّا السَّلَمَ خَاصَّةً، وَهَذَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ «، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَ الْإِنْسَانِ، وَرَخَّصَ فِي السَّلَمِ»۔[3]

دوسری صورت یہ ہے کہ پنشن کو حکومت پر فروخت کیا جائے پھراس میں توڑا سا تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ  یہ اگر چہ بظاہر بیع ہے لیکن در حقیقت یہ بیع نہیں بلکہ عطا ء مؤجل کو معجل بنانا ہے  چونکہ یہ اس ملازم کا حق ہے اور معجل ہونے کی صورت میں اسے  مؤجل کے بنسبت کم ملے گا تو اس کا مطکب یہ ہے کہ ملازم بخوشی  ما بقے حق سے دستبردار ہو کر ما حضر یک مُشت لینا چاہتا ہے اس میں کو ئی قباحت نہیں اور یہ صورت شرعا جائز ہے۔

”آپ کے مسائل اور ان کا حل “ میں مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ “یہ معاملہ حکومت کے ساتھ جائز ہے،  وجہ اس کی یہ ہے کہ جو شخص پینشن پر جارہا ہے،  حکومت کے ذمہ اس کی جو رقم واجب الادا ہے وہ اس کا اس وقت تک مالک نہیں ہوتا جب تک اس رقم کو وصول نہ کرلے، اب اس پینشن کو گورنمنٹ کے پاس فروخت کرنے کا مطلب یہ ٹھرتا ہے کہ گورنمنٹ اس سے معاہدہ کرتی ہے کہ وہ اپنا یہ حق چھوڑ دے اور اس کے بجائے وہ اتنی رقم نقد لے لے اور ملازم اپنے استحقاق کو چھوڑنے کےلئے تیار ہو جاتا ہے ۔ پس یہاں درحقیقت کسی رقم کا رقم کے ساتھ تبادلۂ نہیں بلکہ تا حین حیات جو اس کا استحقاق تھا،اس کا معاوضہ وصول کرنا ہے اس لیے شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں “۔[4]

یہی رائے عصر حاضر کے ممتاز عالم دین مولانا عبدالحق کی ہے[5]

اور یہی رائے  شیخ القرآن مولانا گوہر رحمان ؒ  کا ہے  وہ لکھتے ہیں کہ پنشن شرائط ملازمت کی رو سے ملازم کا حق ہے جو ریٹائرمنٹ پر اسے ماہانا ملتا ہے اس لئے اگر ریٹائرمنٹ کے بعد  ملازم اور حکومت کے درمیان یہ معاہدہ ہو جائے کہ اتنی رقم  حکومت یک مُشت ادا کردے گی اور اپنے باقی حق سے ملازم دستبردار ہو جائے گا تو  یہ جائز ہے اس پر کوئی  شرعی اعتراض وارد نہیں ہوتا عام طور پر لوگ اس کو پنشن کا بیچنا کہتے ہیں لیکن شرعا یہ بیع شراء نہیں ہے بلکہ ا پنا واجب الوصول  حق قسطوں کی بجائے یک مُشت  وصول  کرنا ہے اور اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینا ہے۔خرید  و فروخت تو اسی چیز کی کی جاسکتی ہے جو مالکانہ  قبضے میں آگئی ہو ۔[6]

بہر حال خلاصہ یہ ہوا کہ حکومت کے علاوہ کسی کے ساتھ پنشن کا بیع درست  نہیں ہے یعنی پہلی صورت میں  بیع نا جائز ہے اور دوسری صورت میں جائز  ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

[1] : سنن نسائی، حدیث 4617

[2] : تبیین الحقائق، ج4،ص322، طبع مکتبہ محمدیہ

[3] : بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،ج4،ص340،طبع دارالکتاب

[4] :  آپ کے مسائل اور ان کا حل ج  7 ص 76 مکتبہ لدھیانوی

[5] : فتاویٰ حقانیہ ،ج6،ص 45-46

[6] : تفہیم المسائل ،ج4،ص445،طبع مکتبہ تفہیم القرآن مردان

اپنا تبصرہ لکھیں