سوال: کیاٹرین کی دیواروں پر تیمم کرناشرعا درست ہے یا نہیں؟

سوال: کیاٹرین کی دیواروں پر تیمم کرناشرعا درست ہے یا نہیں؟

الجواب بتوفیق اللہ

جب ایک شخص پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو تو اس وقت ان کیلئے تیمم جائز ہے تیمم کی مشروعیت قرآن اور احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہےچنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌” [1]

اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے، یا تم نے عورتوں سے لَمس کیا ہو، اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو۔

الموسوعۃ الفقہیہ میں  لکھا گیا ہے کہ تیمم  کی مشروعیت اجماع امت سے ثابت ہے ؛

” وقد اجمع المسلمون على ان التيمم مشروع بدلا عن الوضوء والغسل في احوال خاصه” [2]

اب رہا یہ مسئلہ کہ ٹرین کی دیواروں پر تیمم کرنا شرعا کیسا ہے  تو اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور اختلاف کی بنیادیہ ہے کہ کس چیز پر تیمم جائز ہے: الدکتوروھبۃالزحیلی نے الفقه اسلامی وادلتہ میں تیمم کی شرائط بیان کئے  ہیں   اور اس میں شرط اول ذکر کیا ہے الصعید الطاہر فلا یصح التیمم بغیر صعید الارض عند الشافعیة والحنابلہ وکل ما کان من جنس الارض عند الحنفیة والمالكية ۔[3]

امام شافعی اور امام احمدبن حنبل نے جو شرائط بیان کیےہیں اس کی تائید میں الموسوعۃ الفقہیہ میں بھی تیمم کے شرائط بیان کئےگئےہیں اور اس میں ایک شرط یہ ہے کہ تیمم فقط  الصعید الطاہر پر جائز ہے ۔

فان فاقد الصعید الطھور لا یجب علیہ التیمم ولا یصح منہ بغیرہ حتى لو کان طاھرا فقط کالارض التی اصابتھا نجاست ثم جفت فانھا تکون طاھرة تصح الصلاة علیھا ولا تکون مطھرة فلایصح التیمم بھا  الخ[4]

اور احناف   میں امام ابو یوسف بھی اس کے قائل ہیں کہ تیمم  صرف اور صرف مٹھی پر جائز ہے ان علماء کے نزدیک ٹرین کی  دیواروں پر تیمم کرنا درست نہیں البتہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک ٹرین کی دیواروں پر غبار ہو تو اس وقت  ٹرین کی دیواروں پر تیمم جائز ہے اگر  غبار نہ ہو تو بالاتفاق تیمم جائز نہیں ہے کیونکہ ٹرین کی دیواریں عام طور پرپلاسٹک اور لکڑی اور لوہے سےبنے ہوتے ہیں  اور غبار کی صورت میں تیمم جائز ہے بدائع الصنائع میں ہے۔

ويجوز التيمم بالغبار بان ضرب یدہ علی ثوب او لبد او صفة  سرج فارتفع غبار وكان على الذهب أو الفضة  أو على الحنطة أو الشعير أو نحو ها غبار فتيمم به اجزاه في قول أبي حنيفة ومحمد عند ابی یوسف لا یجزیہ و بعض المشایخ قالوا اذا لم   یقدر علی الصعید يجوز عندہ والصحيح انه لا يجوز في الحالين رؤی عنه انه قال وليس عندی  الصعید وھذا وجہ قولہ ان   المامور بہ التیمم بالصعید وھو اسم لتراب الخالص والغبار لیس بتراب خالص بل ھو تراب  من وجہ دون وجہ فلا یجوز بہ تیمم    ولهما  انه جزء من اجزاء الارض الا انه لطيف يجوز التيمم به كما يجوز بالکثیف بل اولی وقد روی  ان عبد الله بن عمر رضي الله تعالى عنه   کان  بالجابية فمطروا فلم یجدوا ماء یتوضون بہ ولا صعیدا یتیممون بہ فقال ابن عمر لینفض كل واحد منكم ثوبه او صفة  سرجه وليتيمم وليصل ولم ينكر عليه أحد فيكون إجماعا۔[5]

ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے  اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ٹرین کی دیواروں پر غبار ہوں تو تیمم جائز ہے

واللہ اعلم بالصواب

[1]: النساء  – 43

[2] : الموسوعة الفقهية  ج 14 ص 239

[3] :  الفقه الإسلامي وادلته ج ا ص 592

[4] :  الموسوعة الفقهية  ج 14 ص250

[5] : بدائع الصنائع ج 1 ص 183

اپنا تبصرہ لکھیں