سوال: میری بیوی مجھ سے اونچی اواز میں بات کر رہی تھی اور شور کر رہی تھی میرے منع کرنے پر میری بیوی نے مجھ سے کہا تم مرد ہو تو مجھے طلاق دیدو میں نے چپ کرانے کے لیے بول دیا طلاق طلاق طلاق اس کے بعد خاموشی اختیار کر لے اور ہم دونوں چپ ہو گئے۔ کوئی بات نہیں کی۔ میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا۔ چپ کرانے کا تھا۔ قران اور سنت کی روشنی میں فقہ حنفی کے مطابق ہمیں فتویٰ دیا جائے۔ کہ طلاق ہوئی یا نہیں اور کتنی طلاقیں ہوئی میں آیا دوبارہ نباہ کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟
الجواب بعون الملک الوھاب
فقہی رو سے طلاق کے الفاظ ادا کرنے کے ساتھ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ خواہ طلاق کے الفاظ جبر کے حالات میں کہیے ہوں یا مذاق میں کہے ہوں۔
بصورت مسؤلہ تین طلاقیں واقع ہو گئیں اس لئے کہ الفاظ صریحہ میں نیت کی حاجت نہیں ہے۔ نیز کھیل کھود اور مذاق میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا خاموش کرنے والی بات قابل قبول نہیں ہوگی۔
مشہور فقیہ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
وأما الهازلُ فيقعُ طلاقُهُ قضاءً ودِيانةً لأنه قصدَ السببَ عالماً بأنه سببٌ فرتبَ الشرعُ حكمَهُ عليه أراده أو لم يردهُ [1]
مذاق میں طلاق قضاً اور دیانتاً دونوں صورتوں میں واقع ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ اسے جانتے ہوئے سبب طلاق کا قصد کیا ہے لہٰذا اس کے شرعی حکم بھی مرتب ہوگا۔ چاہے طلاق دینے کا ارادہ ہو یا نہیں۔ طلاق واقع ہو جائےگی اور طلاق مغلظ ہوگی۔
لیکن اگر اس نے پہلے سے گواہ بنا لے تھے۔ مثلا یہ کہہ رکھا تھا ۔ کہ میں اس طرح کہوں گا۔ لیکن میری نیت طلاق دینا نہیں ہوگی۔ صرف بیوی کو خاموش کرنا ہے۔ تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور طلاق واقع نہ ہوگی۔
در مختار میں ہے۔
وَإِنْ قَالَ تَعَمَّدْتُهُ تَخْوِيفًا لَمْ يُصَدَّقْ قَضَاءً إِلَّا إِذَا أَشْهَدَ عَلَيْهِ قَبْلَهُ وَبِهِ يُفْتَى وفي الطحطاوي، قوله تعمدته تخويفا ولم يكن من قصد الطلاق. قوله إلا إذا أشهد عليه قبله أي قبل التكلم بأن قال امرأتي طلبت مني الطلاق وأنا لا أطلق فأقول هذا[2]
اور اگر شوہر نے کہا کہ میں نے الفاظ بیوی کو ڈرانے کےلئے کہے تو اس کی اس بات کی قضاء تصدیق نہیں کی جائے گی الا یہ کہ وہ اس کہنے سے قبل اس پر گواہ بنائے(کہ تم گواہ ہوکہ میں الفاظ وقوع کے لئے نہیں بلکہ بیوی کو ڈرانے کے لئے کہوں گا)تو پھر اس کی تصدیق کی جائےگی اور طلاق واقع نہ ہوگی اور اس پر فتوی ہے اور طحطاوی میں اس عبارت کی تشریح اوروضاحت یوں ہے کہ مقصد الفاظ طلاق کہنے سے ان کو ڈرانا تھا۔طلاق کا نہیں تھا تو طلاق تب واقع نہ ہوگی کہ جب شوہر پہلے سے اپنے اس موقف پر گواہ نہ بنائےکہ میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا ہے اور میں نے طلاق نہیں دی۔
وَلَا يَفْتَقِرُ إِلَى نِيَّةٍ لِأَنَّهُ صَرِيحٌ فِيهِ لِغَلَبَةِ الِاسْتِعْمَالِ[3]
اورنیت کااعتبار نہیں ہوگا کیونکہ وہ صریح طلاق ہے غلبہ استعمال کی وجہ سے۔
ان سب قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طلاق طلاق مغلظ واقع ہوئی ہے۔ اور دونوں کے درمیان جدائی لازم ہے۔
دوبارہ نباہ کے لیے صورت اس وقت ہوگا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ[4]
پھر اگر اس نے تیسری طلاق دے دی۔ تو وہ عورت اس تیسرے طلاق کے بعد اس کے لئےحلال نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے۔ دوسرے مرد نے اس کو طلاق دی پھر نبھانا کی صورت جائز ہے تو اس کے علاوہ جائز نہیں ہے۔لیکن یہ بھی منصوبہ بندی کے تحت نہیں کہ مقصد حلالہ کرنا ہو صرف اتفاقیات کی دنیا میں اگر ایسا ہوجائے۔یا دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے۔یا وہاں بھی اتفاقا حا لات ایسے خراب ہوجائے کہ جیسا پہلے شوہر کے ہاں خراب ہوگئے اور بات تین طلاق تک پہنچ گئی تو پھر پہلے شوہر کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے۔
واللہ اعلم باالصواب
[1] : فتاوی شامی، ج 3 ،ص 250 ،مکتبۃایچ ایم سعید کراچی
[2] : الدر المختار مع حاشيه الطحطاويه، ج 2، ص 112
[3] : الھدايه ،ج2، ص 378، ناشر رحمانیہ
[4] : البقرہ:230