سوال :میاں بیوی کے مابین طلاق واقع ہونے میں اختلاف ہے شوہر قسم کھانے کے لئے تیار ہے کہ میں نے نہ طلاق دی ہے۔ اور نہ طلاق دینے کا ارادہ ہے اور بیوی کہتی ہیں کہ انہوں نے مجھے طلاق دی ہے اور بیوی کے پاس کوئی گواہ بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس مسئلے کا شرعی حکم کیا ہے ؟
الجواب بعون الملک الوھاب
جب زوجین کے مابین وقوع طلاق میں اختلاف پایا جائے اور عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو بیوی کے لیےاپنےدعویٰ پردو گواہ پیش کرنا ضروری ہے، اگر اس کے پاس گواہ نہ ہو اور خاوند انکار کرے تو شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی۔
ترمذی شریف میں حدیث ہے:
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ[1]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے اپنے خطبہ میں فرمایا:گواہ مدعی کے ذمہ ہے اورقسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔
فتاویٰ ھندیہ میں ہے:
وَإِنِ اخْتَلَفَا فِي وُجُودِ الشَّرْطِ، فَالْقَوْلُ لَهُ إِلَّا إِذَا بَرْهَنَتْ [2]
اور اگر شرط کے وجود میں میاں بیوی کا اختلاف ہو جائے تو مرد کے قول کا اعتبار ہوگا سوائے اس کے کہ عورت گواہ لے آئے۔
فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:
فَفِي كُلِّ مَوْضِعٍ يُصَدَّقُ الزَّوْجُ عَلَى نَفْيِ النِّيَّةِ، إِنَّمَا يُصَدَّقُ مَعَ الْيَمِينِ[3]
ہر جگہ میں شوہر کی نفی والی بات کی تصدیق کی جائیگی لیکن قسم کے ساتھ۔
صورت مسئولہ میں جب بیوی خاوند کے بارے میں طلاق کا دعوی کرتی ہے تو اگر عورت اپنے دعوائے طلاق پر دو گواہ پیش کر دے ،یا خاوند طلاق کا اقرار کرے، تو طلاق واقع ہو جائے گی ورنہ اگر خاوند اس سے انکاری ہو اور بیوی کے پاس گواہ بھی نہ ہو تو صرف عورت کے دعویٰ کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا اور نہ اس کے کہنے سے طلاق واقع ہوگی، لہٰذا جب خاوند قسم ا ٹھا کر ہرقسم کی تسلی کے لیے تیار ہوتو اس صورت میں بیوی کا نکاح قائم رہے گا ۔
واللہ اعلم باالصواب
[1] : ترمذی،ابواب الاحکام عن رسول اللہ ﷺ، باب ما جاء فی ان البینۃ علی المدعی۔۔۔حدیث نمبر:1341 مکتبہ بشریٰ
[2] : الفتاوىٰ الہنديہ، كتاب الطلاق الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث،ج:1، ص:422
[3] : الفتاوى التاتارخانيہ 3/325