سوال : غسل کا لفظی اور شرعی معنی کیا ہے اور غسل کن حالات میں انسان پر فرض ہیں اور کن حالات میں سنت ہوگی ؟
الجواب بتوفیق اللہ عزوجل
غسل کا حکم قرآن پاک میں واضح طورپر آیا ہے:
وَاِنۡ كُنۡتُمۡ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوۡا ؕ [1]
اگر جَنابت کی حالت میں ہو تو نہاکر پاک ہوجاوٴ۔
غُسل کا معنی ہےپانی اور نہانے اور پانی دونوں کے لیے غُسل اور غَسل دونوں لغتیں ہیں جمہوراہل لغت میں سے بعض کے نزدیک غَسل کا معنی ہے دھونا اور غُسل کا معنی ہے نہانا مثلا کہتے ہیں غُسل جمعہ سنت ہے اور غُسل جنابت واجب ہے اور غسل (بکسرالغین )نہانے کے آلات مثلاً صابن ، شمپو اور بیری کے پتوں کو کہتے ہیں ۔
غسل کاشرعی معنی ہے پوری جسم کا دھونا اور کم از کم ایک بار سر سے پاؤں تک جسم کی تمام اعضاء کے دھونے کو کہتے ہیں۔
غسل کا مسنون طریقہ:
اگر جسم پر نجاست لگی ہو تو پہلے اس کو دور کر لیا جائے پھر وضوء کیا جائے اگر غسل خانہ میں پانی جمع نہیں ہوتا تو وضوء کے ساتھ پاؤں بھی دھویا جائے پھر شرم گاہ دھویا جائے گا اس کے بعد تین دفعہ دائیں کندھے پر پھر تین دفعہ بائیں کندھے پر اور اس کے بعد تین دفعہ سر کو شامل کرتے ہوئے پوری جسم پر پانی بہایا جائے نہ بہت زیادہ پانی نہ بہت کم پانی استعمال کرے پہلی دفعہ پانی ڈالے کے بعد جسم ملے اور اس کا خیال رکھے کہ غسل کے وقت رخ قبلہ کی طرف نہ رہے جہاں پانی جمع ہو جاتے ہو تو غسل سے فارغ ہوئے کے بعد اخیر میں ٹخنوں تک پاؤں دھوئے۔
غسل کے فرائض تین ہیں۔
(1) کلی کرنا اس طرح کہ پانی حلق کی جڑ تک پہنچ جائے البتہ صوم کے حالت میں صرف کلی کرنا کافی ہوگا (2) ناک میں پانی ڈالنا جہاں تک کہ نرم ہڈی دہل جائے (3) سارے بدن پر ایک بار اس طرح پانی بہانا کہ کوئی بھی جگہ خوشک نہ رہ جائے۔([2])
وہ چیزیں جن سے غسل کرنا واجب ہے :
- مرد یا عورت کی منی کا نیند یا بیداری کی حالت میں نکلنا ،لیکن منی کا نکلنا لذت کے ساتھ ہو دوسری بات یہ ہے کہ اگر انسان کو بد خوابی ہو مگر وہ منی نہ پائے تو اس پر غسل ضروری نہیں اور اگر انسان نیند سے بیدار ہو اور تری پائے تو اس پرغسل کرنا ضروری ہےخواہ اسے بد خوابی یاد ہو یا نہ ہو۔
- مرد اور عورت کے ختان کا آپس میں مل جانا
- حیض اور نفاس کے بعد[3]
وہ چیزیں جن کےلیے غسل کرنا مسنون یا مستحب ہے :
(1) نماز جمعہ کے لئے (2) دونوں عیدین کی نمازوں کے لئے (3) میت کو غسل دینے کے بعد (4) احرام باندھتے وقت (5) عرفہ کے دن (6)مکہ معظمہ میں داخل ہوتے وقت (7)وقوف عرفات کے وقت
غسل میں پانی کے بے جا اسراف نہ کریں ضرور ت کے مطابق پانی کا استعمال کریں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کی بہت کم مقدار سے غسل کر لیا کرتے تھے ۔
واللہ اعلم بالصواب
[1] : المائدۃ – 6
[2] :فتاوی ھندیہ الفصل الاول فی فرائضة ج 1 ص 13 مکتبہ الحسن
[3] : فقہ السنہ کتاب الطہارت حصہ اول ص 64 ناشر الفیصل