سوال: تقویٰ کا لغوی اور اصطلاحی تعریف اور مراتب تقویٰ کیا ہیں حصول علم میں تقویٰ کا کیا کردار ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق
تقوا کی لغوی تعریف: ـ علامہ ابوالحسن علی بن اسماعیل النحوی المعروف بابن سید المتوفیٰ ۴٠٨ لکھتے ہیں کہ
“اصل الاتقاء الحجز بین الشئین یقال اتقاہ بالتراس ای حبلہ حاجز بینہ وبینہ واتقاہ بحقہ ایضا کذالک”
اتقاء اصل میں دو چیزوں کے درمیان پردہ فاصلہ کرنے کو کہتے ہیں،
تاکہ اس میں مل نہ سکیں) کہ اس نے ڈھال کے ساتھ اپنا بچاؤ کیا یعنی اس نے ڈھال کو اپنے درمیان اور حملہ اور کے درمیان کرکے اس نے اپنا حق بچا لیا یعنی اس کے درمیان اور اس کے چھپنے کے درمیان اس نے اڑ پیدا کردی۔
2:ـمعروف مفسر اور لغوی امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ المتوفی 502 لکھتےہیں:
“الوقایة حفظ الشئی مما یوذیہ ویفسرہ یقال وقیت الشئ وقایة ووقاء قال (فوقاھم ؛ووقاھم عذاب السعیر،وما ھم من اللہ من واق،مالک من اللہ من ولی ولا واق ،قوا انفسکم واھلیکم نارا،والتقوی حبل النفس فی وقایة مما یخاف” [1]
مضر اور نقصان دہ چیز سے محفوظ ہونے کو وقایة کہتے ہیں اسی طرح خوف زدہ سے اپنے آپ کو حفاظت میں رکھنے کا نام تقوی ہے
3:ـامام فخرالرازی رحمۃ اللہ تعالی المتوفیٰ ٦٠٦متقی کی لغوی تعریف یوں فرماتے ہیں :
“المتقی فی اللغة اسم فاعل من قولھم وقاہ فاتقی والوقایة فرط الصیانة” [2]
لغت میں متقی باب اتقاء (افتعال)سے اسم فاعل کا صیغہ ہےجو انتہائی حفاظت کرنے والے پر بولا جاتاہے اور کہتے ہیں:
“تقی القلب من الغش،والدغل ،وجاعل النفس فی وقایة مما یخاف فرطا”
حسد وکینہ سے صاف دل والا ،خوف زدہ چیزوں سے انتہائی احتیاط سے اپنےاپ کو بچانے والے آدمی کومتقی کہتے ہےتقوی کی شرعی تعریف:علامہ فخرالرازی ؒ تقوی کی شرعی تعریف نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قال علی ابن طالب التقوی ترک الاضرار علی المعصیة وترک الاغترار باالطاعة،
سیدنا علی بن طالب فرماتے ہیں کہ اطاعت گزاری کرتے ہوئے دھوکہ بازی کو ترک کرنے اور گناہوں پر اصرار کرنے سے باز آنے کا نام تقویٰ ہے۔
سیدنا حسن فرماتے ہیں کہ تقوی یہ ہے کہ اللہ تعالی پر اس کے علاوہ کسی کو فضیلت نہ دی جائے اور تمام کے تمام معاملات اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
“وقال الحسن ،التقوی ان لا تختار علی اللہ سوی اللہ وتعلم ان الامور کلھابیداللہ۔
ابراھیم بن ادہم فرماتےہیں کہ تقوی اس چیز کا نام ہے کہ لوگ تیری زبان پر کوئی عیب نہ پائے ،فرشے تیرے ظاہر میں عیب نہ پائیں اور عرش عظیم کا مالک تیرے باطن میں کوئی عیب نہ دیکھےـ
“وقال ابراھیم ابن ادھم ؛:التقوی ان لا یجدالخلق فی لسانک عیبا ولا الملائکة فی افعالک عیبا ولا ملک الفرش فی سرک عیبا۔
وقال الواقدی التقوی ان تزین سرک للحق کما زینت ظاھرک للخلق،،ویقال ان لا یراک مولاک حیث نھاک””ویقال المتقی من سلک سبیل المصطفی وببذ الدنیا،وراء القفا وکلف نفسہ الاخلاص والوفاء واجتنب الحرام والجفا”۔[3]
علامہ واقدی فرماتے ہیں کہ اپنے باطن کو حق تعالی اللہ کے سامنے اس طرح خوبصورت کر کے پیش کرو جس طرح اپنے ظاہر کو مخلوق کے سامنے مزین کرکے پیش کرتےہو ـ
ایک قول یہ بھی ہےتقوی یہ ہے کہ تیرا مالک تجھےان چیزوں میں ملوث نہ دیکھے جن سے اس نے تجھے منع کیا ہے,اور متقی کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ وہ محمدﷺ کے راستے پر چلے اور دنیا کو اپنی پشت پیچھے ڈال دے اور اپنےآپ کو اخلاص وفاداری پر امادہ وتیارکرے اور حرام کاری و بد اخلاقی سے اجتناب کرے،
امام راغب اصفہانی رحمہ ا للہ لکھتے ہیں
“التقوی فی تعارف الشرع حفظ النفس عما یوثم وذالک بترک المحظور ویتم ذالک بترک بعض المباحات لما روی الحلال بین والحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ”[4]
عرف شرع میں اپنے نفس کو گناہ میں واقع کرنے والے امور سے بچانے کا نام تقویٰ ہے اور یہ منہیات کو مکمل طور پر اور بعض مشکوک مباحات کو بھی ترک کر دینے سے ممکن ہے جیسا کہ نبی ﷺکی حدیث ہےکہ حلال وحرام (کی حدود)واضح ہیں اور جو کسی چراگاہ کے قریب بھٹکتا ہے حقیقت میں اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ معروف مفسر امام ابو القاسم جاراللہ محمود عمر زمحشرالمتوفی ۵٣٨ لکھتے ہیں
“وھو فی الشریعة الذی یقی نفسہ تعاطی ما یستحق بہ العقوبة من فعل او ترک” [5]
شریعت میں متقی ایسے آدمی کو کہتے ہیں جو ایسے امور سے بچنے میں معروف ہو جائے جن کےنہ کرنے سے سزا لازم
آتی ہے۔علامہ الوسی بغدادیؒ تقوی کا شرعی معنی ان الفاظ سے بیان فرماتے ہیں
“والمتقین)وشرعاً صیانة المرء نفسہ عما یضر فی الاخرة”[6]
شریعت کے مطابق اپنے آپ کو آخرت میں نقصان دہ چیزوں سے محفوظ رکھنے والا متقی کہلاتا ہے –
تقوی کی اہمیت: تمام انسانوں کو تقوی کا حکم،تقوی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے اللہ تعالی نے تمام کی تمام انسانیت کو تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرنے کا حکم صادر فرمایا،ارشادباری تعالی ہے”وَلِلّـٰهِ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّـٰه وَاِنْ تَكْـفُرُوْا فَاِنَّ لِلّـٰهِ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَكَانَ اللّـٰهُ غَنِيًّا حَـمِيْدًا”[7]
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، اور ہم نے حکم دیا ہے پہلی کتاب والوں کو بھی اور تمہیں بھی کہ اللہ سے ڈرو، اور اگر ناشکری کرو گے تو اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ بے پروا تعریف کا لائق ہے ,
“يَاأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”[8]
اے لوگو اپنے اس پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
اہل ایمان کو تقوی کا حکم :متعدد مقامات پر اہل ایمان کو تقوی اختیار کرنے کا حکم صادر فرمایاارشاد ربانی تعالی ہے”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ “
اے ایمان والو ! دل میں اﷲ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار ! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو
سیدنا عبداللہ ابن مسعودؓ نے حق تقتہ کا معنی یوں بیان کیا ہے کہ”ان یطاع فلا یعصی ویذکر فلا ینسی”
اللہ تعالی کی اطاعت کی جائے اس کی نافرمانی نہ کی جائے اسے یاد کیا جائے بھولا نہ جائےـ
لہذا بندہ مومن ہر وقت ہر حال میں اللہ سے تعلق رکھے اس کے عذاب سے ڈرتا رہے اور اس کی عظمت و جلال کا اعتراف اس کے دل ودماغ پر مسلط رہے۔
تمام رسولوں کو تقویٰ کا حکم : اللہ تعالی نے تمام انبیاء کرام کو اکل حلال وعمل صالح اور تقوی اختیار کرنے کا حکم دیاہےارشاد ربانی تعالی ہے:
“یایھاالرسل کلوا من طیبات وعملوا صالحا،انی بما تعملون علیم*وان ھذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاتقون” [9]
اے میرے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو بےشک میں اپ کےعمل سے باخبر ہواور خوب جاننے والا ہوں اوربے شک یہی تم سب کادین ہے جوایک ہی دین ہ اور میں تم سب کا رب ہوں پس تم لوگ مجھ سے ڈرتے ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تقویٰ کا حکم :تقوی کی اس اہمیت کے تحت اللہ تعالی نے جہاں تمام انسانوں اہل ایمان, انبیاء کرام کو بار بار تقوی کی تلقین کی وہاں اللہ تعالی نے اپنے محبوب پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تقوی کی تاکید فرمائی اورارشاد ربانی ہے ۔
“یا اَيُّـهَا النَّبِىُّ اتَّقِ اللّـٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكَافِـرِيْنَ وَالْمُنَافِقِيْنَ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا”
اے نبی اللہ سے ڈر اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مان، بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہےـ
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس میں سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرکے ادنی امت کو تنبہ کی گئی ہے جب اللہ تعالی اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دے رہا ہے تو ان سے کم درجہ والوں پر تو اس حکم کی تکمیل بطریق اولی ہو گی۔
ازواج مطہرات کو تقوی کا حکم: اللہ تعالی نے امہات المومنین کو نصیحت کی کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالی سے ڈرتی رہیں اس کا تقوی اختیار کریں.اللہ تعالی ارشاد ربانی ہے
“واتقین اللہ ان اللہ کان علی کل شئ شھیدا”
اور اللہ سے ڈرتی رہی بیشک اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔[10]
دوسرے مقام پر فرمایاکہ تم اپنے مقام اعلی کی حفاظت اسی صورت میں سکوگی کہ صلاح وتقوی کو اپنی زندگی کا شعار بنا لوں گی ,
“يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفًا”
اے نبی کی بیویو! اگر تم تقویٰ اِختیار کروتو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہٰذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو.,
٭: انبیاء کرام کا اپنی امت کو دعوت تقویٰ دینے کا اہتمام:
تقوی کی مزید اہمیت کو سمجھنے کے لیے گزشتہ انبیاء علیہ صلاۃ و سلام اور ا ن کی امتوں کے حالات پر نظر ڈالیے مراتب تقوی:ہر چیز کے کچھ درجات ہوتے ہیں اس طرح کے بھی کچھ مراتب چنانچہ علامہ الوسی رحمہ اللہ تقوی کے مراتب یوں بیان فرماتےہیں۔
“والمراتب متعددة لتعدد مراتب الضرر”
الاول؛”التوقی عن الشرک”
الثانی:ـ “التجنب عن الکبائر ؛منھا الاصرار علی الصغائر”
الثالث:ـ “مااشیر الیہ بما رواہ الترمزی لا یبلغ العبد ان یکون من االمتقین حتی یدع ما لا بآس بہ حذر مما بہ بآس،وفی ھذہ المرتبة یعتبر ترک الصغائر”[11]
جیسے تکلیف وضرر کے مختلف مراتب ہے اسی طرح تقوی کے بھی مختلف مراتب ہیں۔
پہلا مرتبہ :شرک سے اجتناب کرنا
دوسرا مرتبہ: کبیرہ گناہوں سے کنارہ کشی اور صغیرہ پر اصرار بھی اسی زمرے میں اتاہے۔
تیسرا مرتبہ وہ ہے جس کی طرف امام ترمذی رحمہ اللہ کی روایت کردہ حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے آدمی اس وقت تک متقی نہیں ہو سکتا جب تک حرج والی چیزوں سے بچنے کے لئے ان چیزوں کو ترک نہ کر دے جن کے کرنے میں حرج نہیں ہے اور اس مرتبہ معتبر ترین چیز صغیرہ گناہوں کو ترک کرنا ہے .
حصول تقوی کے اسباب :
1۔ایمان:اور تقوی دونوں لازم وملزوم ہیں ۔پس جس دل میں ایمان ہوگا تقوی ضرور موجود ہوگا اللہ تعالی بے متقین کی علامات میں سے جو سب سے پہلی علامت بیان فرمائی ہے وہ ایمان ہے
اللہ تعالی کا ارشاد ربانی تعالی ہے
“ھدی اللمتقین الذین یومنون بالغیب ویقیمون الصلوة ومما رزقنھم ینفقون”[12]
یہ قرآن ہدایت ہے متقین کے لئے وہ لوگ جو غیبی امور پر ایمان رکھتے ہیں اس طرح رب کائنات میں دوسرے مقام پر ایمان والوں کو مخاطب کرکے تقوی کا حکم دیا ہے”ياايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون”[13]
اے ایمان والوں تم اللہ سے اس طرح ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف وصرف مسلمان ہونے کی حالت میں انی چاہئےـ
” صَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُـمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُـوْا ثُـمَّ اتَّـقَوْا وَّاَحْسَنُـوْا ۗ وَاللّـٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ”
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان پر کوئی گناہ نہیں اس چیز میں جو پہلے کھا چکے ہیں (اس صورت میں کہ) جب پرہیزگار ہوئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو پھر مستقل مزاجی سے پرہیزگار ہوگئے اور نیکی کرنے لگے، اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
امام فخر الرازي نے اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں
“والقول الخامس ان المقصود من هذاالتكویر التاكيد والمبالغه في الحث على الايمان والتقوى” [14]
پانچواں قول یہ ہے اس ایت میں) ایمان اور تقوی تکرار سے بیان تاکید اور مبالغہ مقصود ہے۔
2۔نماز :کلمہ توحید کے بعد اسلام کا بنیادی رکن نماز ہے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے”اول ما يحاسب به العبد يوم القيامه صلاته” [15]
قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا،
قران کریم میں متعدد مقامات پر اقامت الصلاۃ کے ساتھ تقوی کا بھی حکم موجود ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ نماز تقوی اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہے ان میں سے چند ایک مقامات کو ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔
ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ,الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ،[16]
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گارو ں کے لیے ہدایت ہے۔وہ لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ(ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ،
“قُلْ أَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِين”
کہہ دے اے پیغمبرﷺکیا ہم اللہ کے سوا اس کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے اور نہ ہمیں نقصان دے اور ہم اپنی ایڑیوں پر پھیر دیے جائیں، اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہے، اس شخص کی طرح جسے شیطانوں نے زمین میں بہکا دیا، اس حال میں کہ حیران ہے، اسی کے کچھ ساتھی ہیں جو اسے سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں کہ ہمارے پاس چلےاو کہہ دے بے شک اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہی اصل راستہ ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم جہانوں کے رب کے فرماں بردار بن جائیں۔
” وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ “
اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
3۔روزہ: اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں روزے کی فرضیت کے احکام صادر فرما کر اس کا مقصود تقوی قرار دیاہےارشادباری تعالی ہے:
“يا ايها الذين امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون”
اے ایمان والوں تم پر روزہ فرض کر دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھااس لئے کہ تم متقی بن جاو۔
4۔حج : اللہ تعالی کی رضا کے لیے حج کرنا انتہائی عظیم عمل ہے
نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے
“عن ابي هريره رضي الله تعالى عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من حج لله فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته امه”
سيدنا ابو ہريره رضي الله تعالى عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا کہ جس نے اللہ کی رضا کے لئے حج کیا پھر اس میں کوئی بےہودہ بات یا اپنی بیوی سے جماع نہ کیا اور نہ ہی کسی سے جھگڑا کیا تو وہ اس دن کی طرح لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا یعنی گناہوں سے پاک ہو کر ،اس عظیم عبادت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے.
“وتزودوا فان خير الزاد التقوى واتقون يا اولي الالباب”
اور زادراہ اختیار کرو یاد رکھو بہترین زادراہ تقوی ہے ہے اور اے عقل والو مجھ سے ڈرو رو اور تادیر اختیار کرو اور اے عقل والو مجھ سے ڈرو۔اورسودی کاروبار چھوڑنا مندرجہ ذیل کی آیت کریمہ میں مسلمانوں کو بتلایا جارہا ہے کہ ایمان کا تقاضہ تقوی ہے کیونکہ سود اور ایمان دونوں جمع نہیں ہو سکتے ـ
اس طرح ارشاد باری تعالٰی ہیں :”یایھا الذین امنو اتقوا اللہ وذرو مابقی من الربوا ان کنتم مومنین”[17]
جس قدر سود تمہارے مقروضوں کے ذمے ہے۔ مسلمانو! اگر فی الحقیقت تم خدا پر ایمان رکھتے ہو تو اس سے ڈرو! اور جس قدر سود مقروضوں کے ذمے باقی ہے اسے چھوڑ دو اگر تم ایمان دار ہو،
صبر کی شرعی تعریف:امام فخر رازی رحمہ اللہ اللہ صبر کی شرعی تعریف یوں تحریر فرماتے ہیں” اما الصبر فهو قهر النفس على احتمام المكارہ في ذات الله تعالى توطیها على تحمل مشاق وتجنب الجزع” [18]
اللہ کی رضا کے لئے اپنے نفس کو ( نفس پر)ناگوار گزرنے والے امور پر آمادہ کرنے پر مشقت امور کی ترغیب دینے اور جزع( بے صبری سے رک جانے کا نام صبر ہے،
اللہ رب العزت کے قرآن میں صبر والے لوگوں کو ہی متقین کہا ہے ،
ارشاد بارتعالی ہیں :
“والصابرين في الباساء والضراء وحين الباس اولئك الذين صدقوا واولئك هم المتقون”
صبرکرنے والے تکلیف،سختی اورمیدان قتال میں یہی لوگ ہیں جنہوں نے سچی بات کی”اور یہی لوگ تقوی والے ہے
لہذا خلاصہ یہ کلام یہ ہے کہ ہر حالت میں تقوی اختیار کرنا چائیےاور برے، غلط کام اور ہر قسم گناہ سے اجتناب کرنا چائیے،۔
واللہ اعلم بالصواب
[1] : مفردات القران للاصفہانی ص ۵۵٢ بالواو ومع القاف
[2]: تفسیر الکبیر للرازی ج ٢ ص٢٠
[3] : تفسیر الکبیر للرازی ج ٢ ص٢٠
[4] : المفردات فی غریب القرآن ص ۵۵٢
[5] : تفسر اللکشاف للزمحشری ١’٩١
[6] : تفسیر روح المعانی للالوسی ١!١٠٨
[7] : سورة النساء131
[8] : سورة البقرہ ایت ٢١
[10]: سورة الاحزاب ٣٢
[11]: تفسیر المعانی للالوسی ج ا
[12] : سورة البقرہ- ٢،٣
[13] : ال عمران- ١۵٢
[15] : سنن النسائي کتاب الصلوة،
[16] : سورۃالبقرہ،
[17]: سورۃ البقرہ – 278۔279
[18]: تفسیر للرازی ج ۴