سوال: ایک خاتون انتقال کر گئیں انہوں نے ورثاء میں ایک بیٹی اور ایک بھائی اور تین بہنیں چھوڑے، بعد میں بیٹی کا بھی انتقال ہو گیا البتہ اس کی اولاد موجود ہیں مرحومہ کی میراث میں مذکورہ ورثا کس حساب سے تقسیم ہوگی؟
الجواب وباللہ التوفیق
بصدقِ صورت مسئولہ، میں ترکہ کے تقسیم سے قبل جن امور کو انجام دینا ضروری ہے مثلا تجہیز و تکفین، قرض، وصیت کی ادائیگی (کُل مال کے ایک تہائی تک) کے ادا کرنے کے بعد باقی مال کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ کل ترکہ کا آدھا حصہ بیٹی وَاِنۡ كَانَتۡ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصۡفُ [1] (کی اولاد )کو ملے (جو در اصل بیٹی کا حصہ ہے،کیونکہ ماں کی وفات کے وقت وہ زندہ تھی پس اسی وقت ہی میراث کی مستحق ہو چکی تھی،اب اس کا حصہ اس کی اولاد کو دیا جائیگا) اور باقی آدھا حصہ ایک بھائی اور تین بہنوں کے درمیان اسی طرح تقسیم کیا جائے
کہ ایک بھائی کو بہن کے مقابلے میں دگنا ملے وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ [2]۔
پس طریقہ یہ ہوگا کہ ،کُل مال کو دس برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جس سے پانچ حصے بیٹی (کی اولاد) کو دی جائیں گے اور باقی پانچ حصوں میں سے دو حصے بھائی کو ملیں گے۔ اور باقی تین حصے تین بہنوں کو ملیں گے،یعنی ہر بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا۔
واللہ اعلم بالصواب