سوال:ایک شخص فوت ہو گیا ہے ترکہ میں سولہ کنال زمین رہ گئی ہے ورثاء میں ایک بیوہ دو بیٹیاں اور ایک بھائی ہیں۔ ترکہ ان ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا ؟
الجواب وباللہ التوفیق
صورت مسئولہ میں بعد از تجھیزوتکفین و ادائیگی حقوق میّت (باقی ) ترکہ ورثاء میں تقسیم ہوگا جس کی تفصیل یہ ہے
کہ بیوہ کو کُل مال کا آٹھواں حصہ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ [1]
اور بیٹیوں کو کل مال کا دو تہائی حصہ دیا جائے گا فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ [2]
اور باقی جو بچ جائے وہ بھائی کا حصہ ہوگا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سےروایت ہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: “مقررہ حصے ان کے حقداروں کو دو اور ان سے جو باقی بچے وہ سب سے قریبی مرد کا ہے۔” [3]
جس کی صورت یوں ہوگی۔
کُل مال کو 24 برابر حصوں میں تقسیم کیا جائیگا جن سے تین حصے بیوہ کو،16 حصے دونوں بیٹیوں کو(یعنی ہر بیٹی کو آٹھ آٹھ) اور باقی 5 حصے بھائی کو دی جائیں گے۔
واللہ اعلم بالصواب
: [3] صحيح المسلم ،كتاب الفرائض،باب:باب ميراث الولد من أبيه و أمه حدیث نمبر 4143)