ان الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونتوب اليه من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا، من يهده الله فهو المهتدي، ومن يضلل فلا هادي له- واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له، واشهد ان محمدا عبده ورسوله، ارسله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله، ولو كره الكافرون،
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: انما الاعمال بالنيات۔۔۔۔الحدیث( متفق عليه)
اما بعد:-
اسلامی علوم میں فقہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے- اسلامی فقہ اسلام کا نظام قانون ہے، جو اپنی جامعیت ووسعت اور دائرہ کار کے لحاظ سے تمام معاصر اور قدیم نظامہائے قانون سے فائق وبرتر ہےـ
فقہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے، وہ قرآن کریم کا خلاصہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ہے، شریعت کے عمومی مزاج کا ترجمان ہے اور اسلامی زندگی کیلئے چراغ راہ بھی ہے- اس لئے علوم اسلامیہ میں اس کی جو اہمیت و ضرورت ہے وہ آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے اور یہی نہیں کہ اس کی ضرورت صرف اور صرف ماضی ہی سے وابستہ تھی، بلکہ آج بھی اور آئندہ بھی اس کی ضرورت اور اہمیت ماضی ہی کی طرح محسوس کی جاتی رہے گی اور مجتہدین کرام قرآن و حدیث میں غوطہ زنی کر کے فقہی اصول کے ذریعے امت کے پیش آمدہ مسائل حل کرتے رہیں گے- غرض یہ کہ قرآن و حدیث سے تیار شدہ وہ گاڑی ہے جس کے ذریعے حیات انسانی مکمل زادراہ کے ساتھ اپنی منزل مقصود یعنی آخرت تک بآسانی پہنچ سکتی ہےـ
حقیقت فقہ و افتاء:
فقہ قرآن اور سنت سے ہٹ کر شریعت کا کوئی مستقل یہ الگ سرچشمہ اور ماخذ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک خاص ضابطہ کے تحت قرآن و حدیث کی جامع شرح ہے- جن باتوں کو قرآن و حدیث میں اصولی اور اجمالی طور پر بیان کیا گیا ہے، انہی باتوں کو ائمہ نے فقہ میں تفصیل کے ساتھ فر وعات اور جزئیات کی شکل میں نمایاں کیا ہے-
علم فقہ کی لغوی تعریف:
یہ لفظ لغوی اعتبار سے باب (سَمِعَ،کَرُمَ)کا مصدر ہے۔لغت میں لفظ فقہ کو کسی چیز کے جاننے ،سمجھنے اور اُس کی معرفت و فہم حاصل کرنےکے معنی میں استعمال کیاجاتا ہے-
چنانچہ علامہ ابن منظور افریقی المتوفی711ھ لسان العرب میں لکھتے ہیں :
الفقہ:العلم باالشئ والفہم لہ،وغلب علیٰ علم الدین لسیادتہ وشرفہ وفضلہ علیٰ سائر انواع العلم[1]
وکذا فی قاموس المحیط: الفقہ فی اللغۃ: العلم با الشئ والفہم لہ،والفطنۃ فیہ وغلب علیٰ علم الدین لشرفہ[2]
اسی طرح الموسعۃ الفقہیہ میں فقہ کی لغوی تعریف ذکر ہے۔
الفقہ:ھو عبارۃ عن کل معلوم تیقنہ العالم عن فکر-([3])
چنانچہ اسماعیل ابن حماد نے تاج اللغۃ میں فقہ کی تعریف اس طرح کی ہے۔
الفقہ الفہم ثم خص بہ علم الشریعۃ والعالم بہ فقیہ ([4])
فقہ مصدر ہےباب سمع سے،فقہ بمعنیٰ جاننا،سمجھنا ،واضح کرنا ، اور باب کرم سے ،فقہ،فقیہ ہونا،علم میں غالب ہونا ،یعنیفقہ بکسر القاف،جاننا ،بفتح القاف،دوسرے کو سمجھانا ،اور بضم القاف، فقہ میں کمال ومہارت حاصل کرنا-
قرآن حکیم میں بھی درج ذیل مواقع پر یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے-
1۔قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ کَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ-([5] )
وہ بولےاے شعیب تمہارے اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں-
2۔ فَمَا لِهَـؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا([6])
پس اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کو ئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے-
3۔فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ([7])
تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو وہ (کچھ) نہیں سمجھتے-
4۔وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ([8])
لیکن تم لوگ ان کی تسبیح(پاکی بیان کرنے کو)سمجھتے نہیں ہو-
اسی طرح کئی احادیث میں بھی یہی معنی پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے مثلاً صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں:حضرت معاویہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ([9])
اللہ تعالیٰ اسی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے- اسی طرح حدیث میں ہے: اللهم فقِّهه في الدين ، و علِّمه التأويل-([10])
ان سب آیات و احادیث میں لفظ فقہ جاننے اور سمجھنے کے معنی پر آیا ہے۔
علم فقہ کی اصطلاحی تحقیق:
اصطلاح میں فقہ کا لفظ علمِ دین کا فہم حاصل کرنے کے لئے مخصوص ہے۔بالعموم فقہاء کرام فقہ کی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
العلم بالأحکام الشرعية (الفرعية) العملية المکتسبة من أدلتها التفصيلية([11])
یعنی فقہ شریعت کے وہ فروعی احکام جاننے کا نام ہے جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہو۔تفصیلی دلائل سے مراد یہاں قرآن ، سنت ،اجماع اور اجتہاد ہے۔
اسی طرح قاضی محب اللہ بہاری نے علم فقہ کی تعریف کی ہے۔
العلم باالاحکام الشرعیۃ عن ادلتھا التفصلیۃ([12])
تفصیلی دلائیل سے شرعی احکام کو جاننے کا نام فقہ ہے۔
علم فقہ میں صرف ان مسائل سے بحث کی جاتی ہے جو محض بندوں کے افعال سے تعلق رکھتے ہوں جیسے نماز ،روزہ، نکاح، طلاق ،خریدوفروخت اور جرائم وغیرہ۔بالفاظ دیگر اس علم میں صرف ایسے احکام شامل ہیں جو عبادات اور معاملات سے متعلق ہوں اور ایسےاحکام کا اس میں کوئی دخل نہیں جو عقائد وایمانیات سے تعلق رکھتے ہوں۔
لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ کی تعریف یوں کرتے ہے۔
الفقه هو معرفة النفس، مَالَهَا وما عليها([13])
یعنی فقہ نفس کے حقوق اور فرائض و واجبات جاننے کا نام ہے۔ اس تعریف کی رو سے ایمانیات بھی فقہ کی دائرے میں آتے ہیں۔
علم فقہ کی موضوع:
ھو افعال المکلفین من العباد،فیبحث فیہ عما یعرض لافعالہم من حل وحرمۃ ووجوب وندب وکراھۃ([14])
علامہ شامی لکھتے ہیں کہ فقہ کی موضوع ہے-
فعل المکلف ثبوتا او سلبا-([15])
مکلف کی وضاحت فقہ الاسلامی وادلتہ میں اس طرح ہے:
والمکلفون ھم البالغون العاقلون الذین تعلقت با فعالھم—الشریعۃ([16])
مکلف آدمی کے فعل وعمل کے احوال سے اس علم میں بحث ہو تی ہے۔ مثلا: اس کا صحیح ہونا ،صحیح نہ ہونا،فرض ہونا، یا نہ ہونا، حلال ہونا یا حرام ہونا، وغیرہ([17])
علم فقہ کی غرض وغایت:
“الفوز با السعادت الدا رین” ([18])
سعادت الدارین ،علم فقہ کا مقصد احکام شرعیہ کے موافق عمل کرنے کی قوت اور ملکہ پیدا کرنا۔
علم فقہ کی ضرورت واہمیت:
انسان کی مکمل زندگی میں عقائد ، عبادات ، معاملات اور معاشرت، وغیرہ سے متعلق شرعی احکام ومسائل ہزاروں
اور لا کھوں کی تعداد میں قرآن ، حدیث اور صحابہ وغیرہ کے اقوال میں بکھرے پڑے ہیں ۔
اب ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میں ہر مسئلہ بلا واسطہ قرآن ، وحدیث ،اورآثار صحابہ وغیرہ سے خود ہی تلاش کرلوں گا یہ ایک نا ممکن اوربے حد دشوار ہے اس کے ناممکن ہونےکی وجو ہات بہت ساری ہیں مثلا:
1: انسان کی اپنی اپنی لا متناہی مصروفیات۔
2: شریعت کے تمام احکام عربی زبان میں ہیں اور عربی زبان سے واقف نہیں ہوتا اور ہوتا بھی ہے تو اس کے معانی مختلف ہو نے کی وجہ سے صحیح معنیٰ تک اس کا پہنچنا دشوار ہوتا ہے ۔
3: شریعت کے تمام احکام ایسے ہیں جو آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے صراحتا ثابت ہیں لیکن بعض احکام ایسے ہیں کہ جن میں کسی قدر ابہام واجمال ہے اوربعض آیات واحادیث ایسی ہیں جو چند معانی کا احتمال رکھتی ہیں اور کچھ احکام ایسے ہیں جو بظاہر قرآن کی کسی دوسری آیت یا کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتی ہے ۔ تو وہا ں اجتھاد واستنباط کا کام لینا پڑ تا ہے ۔ اور اجتھاد واستنباط ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔
ایسے موقع پر عمل کرنے والے کے لئے الجھن اور دشواری یہ پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنا عمل شریعت کے مطابق کیسے بنائے؟
کس پر عمل کرے اور کونسا راستہ اختیار کرے ؟ اسی الجھن کی وجہ سے خود صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں بلا واسطہ قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ کچھ خا ص صحابہ کرام رسول اللہﷺ کے پاس جاکر قرآنی تعلیمات مستقل طور پر سمجھا کر تےتھے ۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے بعد ہر شخص قرآن و حدیث سے بغیر کسی واسطے کے کوئی مسئلہ اپنے لئے تجویز نہیں کرتاتھا بلکہ جو عالم صحابہ کرام میں سے تھے ان سے مسئلہ معلوم کرکے عمل کیا کرتاتھا۔
اسی طرح ہر زمانے میں ہوتا رہا ۔ بہر حال بعض حضرات زمانے میں ایسے جو قرآن وحدیث کے علوم میں ما ہر ، فہم وبصیرت میں اعلیٰ ، تقویٰ اور طہارت میں فا ئق اور حافظہ وزکاوت میں اوقع تھے لوگ ان ہی سےمسائل معلوم کرکے عمل کرتے اور اپنی فہم وبصیرت پر بلکل اعتماد نہیں کرتے اور اگر ہر کو ئی خود ہی اپنے مسئلہ کو قرآن وحدیث میں تلاش کرنےلگے۔تو گویا ایساہی ہوجائے گا جیسے کہ ہر شخص اپنے مرض کا علاج خود ہی طبی کتابوں میں تلاش کرلے ڈاکٹر وغیرہ کی ضرورت کی اس کو ضرورت ہی نہیں۔
اگر ایسا ہوا تو کیا ہر مریض اپنے مرض کا علاج ان کتا بو ں میں تلا ش کر پائے گا؟ ہر گزنہیں بلکہ اسی طرح دینی وشرعی مسئلہ کو سمجھیں کہ اس کا حل ہر کو ئی نہیں کر سکتا ۔
بہر حال جو لوگ قرآن وحدیث کو مکمل طور پر سمجھے ہیں اور اپنی مکمل زندگی کو مسائل حل کرنے اور قرآن وحدیث کے مطابق اس کو ڈھالنے میں وقف کردیا اور ہر مسئلے کا جواب قرآن وحدیث اور اس کے مطابق اصول کی روشنی میں بتایا ان میں مقبول چار حضرات کے مکا تب فکر ہو ئے ہیں ۔ جن کے نام یہ ہیں :امام ابو حنیفہ ؒ، امام شافعی ؒ ، امام مالک ؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ،۔ان حضرات کے بعد ان کے شاگرد حضرات ہر ایک کا مسئلہ قرآن وحدیث اور ان حضرات کے بتائے ہوئے اصول کے مطا بق بتلایا کرتے تھے اسی طرح یہی معمول اب تک چلا آیا اور آئند ہ بھی چلتا رہے گا۔
توفقہ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے فقہ میں مہارت پیدا کرنا چاہئے۔ ہر دور میں ایسے ماہر علماء کا وجود ناگریز ہے جو ضرورت کے وقت امت کی دینی وشرعی رہنمائی کر سکیں۔
قرآن وحدیث میں تفقہ فی الدین کی ضرورت وافادیت بیان کی گئی ہے ۔ سورۃ التوبہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہیں ۔
فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ الیتفقھوا فی الدین ـ الایۃ([19])
سو کیوں نہ نکلا ہر فر قہ میں سے ان کا ایک حصہ تا کہ دین میں سمجھ پیدا کریں اور تاکہ ڈرائیں اپنی قوم کو جب ان کی طرف
لو ٹ کر آئیں تاکہ وہ بچتے رہیں۔ فقہ سرا پا خیر ہے ۔ جیسا کہ حدیث مبارک میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
من یرداللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین ”
جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرما تے ہیں اس کو دین کی سمجھ عطاء فرما تے ہیں ۔فقہ میں اشتغال افضل ترین عبادت ہے اور تفقہ با عث عزت وشرافت ہے ایک فقیہ شیطان پر ایک ہزار عابد وں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔فقہا ء کرام روحانی طبیب ہوتے ہیں ، علم فقہ تمام علوم میں سب سے بھتر ہے کیونکہ یہ دیگرعلوم تک رسائی کا ذریعہ ہے ۔صحابہ کرام کے عہد مبارک میں بھی فقہ تھی ۔صحابہ کو جب کو یئ مسئلہ درپیش ہو تا، تو وہ رسول اللہﷺ کو رجوع کرتے اور نبی ﷺ کے بعد عام صحابہ کو جب کسی مسئلے کا حکم معلوم کرنا ہو تا تو وہ فقہاء صحابہ سے تحقیق کرتے۔ صحابہ کرام میں بطور خاص سات صحابہ وہ ہیں جن کو مراجعت کا مقام حاصل ہوا ۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں ۔
1:)عمر بن الخطابؓ(2): علی المرتضیٰؓ (3): عبداللہ بن مسعود ؓ(4): عائشہ صدیقہؓ (5):زیدبن حارثہ ؓ (6)عبداللہ بن عباس ؓ (7) عبداللہ بن عمر ؓ۔اورمدینہ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور حضرت زید بن ثابت ؓ اور عراق میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی فقہی آراء سے
لوگ زیادہ مستفید ہوئے۔ تفصیل کے لئے دیکھے ۔اعلام الموقعین، الفقیہ والمتفقہ،مقدمہ ردالمحتار (شامی) وغیرہ۔
چونکہ ہمارے اس مقالے اور کتاب کا تعلق فتویٰ اور افتاء سے ہے لہٰذا اب ہم اس طرف آتے ہیں۔فقہ اور افتاء کے باہمی قریبی تعلق کی وجہ سےفقہ کی مختصر تعارف پیش کی گئی –
فتویٰ کی لغوی تحقیق:
فتویٰ کامادہ ،ف ت ی ہے۔ فتویٰ اور فتیا کےمعنی ہے الابانۃ والظہوریعنی کسی امر کوواضح کرنا۔اس کے بارے میں ایک عربی محاورہ ہے- افتاہ فی الأمر ای ابانتہ فی الأ مر-لفظ فتویٰ پر دو طرح کے اعراب لگائے جاتے ہیں ،فتحہ اورضمہ –
چنا نچہ صاحب المصباح فی رسم المفتی ومناھج الافتاء محمد کمال الدین احمدالرشدی لکھتے ہیں :
واکثر مصنفات الصرف ان الفتیا با الیاء لا تکون الامضمومۃ،وان الفتویٰ باالواو لا تکون الامفتوحۃ ([20])
یعنی فتیا”یا” کے ساتھ صرف مضموم ہوگا اور فتویٰ وأو کے ساتھ صرف مفتوح ہوگا، اسی طرح علامہ ابن ،منظور افریقی نے فتویٰ فتحہ کےساتھ اھل مدینہ کا لغت ہے- اسی طرح مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے اصول الافتاء وآدابہ میں لکھتے ہیں-
الفتویٰ فی اللغۃ: الفتویٰ بفتح الفاء، وقیل بضم الفاء ولٰکن الاول أصح وأشھر والفتویٰ والفتیا تستعملان کحاصل مصدر من قولھم”أفتیٰ ،یفتی ،افتاء” ومعناہ فی اللغۃ: الاجابۃ عن سوأل،سواء أکان متعلقا بالاحکام الشرعیۃ أم بغیرھا –کما فی قولہ تعالیٰ حکایۃ عن ملک مصر “یأیھا الملاء أفتونی فی رؤیٰیی ان کنتم للرؤیا تعبرون ([21]) -([22])
اسی طرح امام راغب اصفہانی ؒ المفردات میں لکھتے ہیں-
الفتیا والفتویٰ : الجواب عن ما یشکل من الاحکام ویقال استفتیت فأفتانی بکذا([23])
اسی طرح علاّمہ ابن منظور افریقی المتوفیٰ711ھ لسان العرب میں لکھتے ہیں:
فتيا وفتوى ؛ اسمان يوضعان موضع الإفتاء ، ويقال أفتيت فلانا في رؤيا رآها : إذا عبرتها له ، وأفتيته في مسألته : إذا أجبته عنها .. يقال أفتاه في المسألة يفتيه : إذا أجابه والاسم الفتوى . والفتيا تبيين المشكل من الأحكام ، أصله من الفتى ، وهو الشاب الحدث الذي شب وقوي ، فكأنه يقوي ما أشكل ببيانه ، فيشب ويصير فتيا قويا ([24])
اسی طرح محمدکمال الدین المصباح فی رسم المفتی ومناھج الا فتاء میں لکھتے ہیں –
الفتویٰ باالواو،وبفتح الفاء وبا الیا فتضم ، وھی اسم من أفتا العالم اذا بین الحکم ،ویقال :أصلہ من الفتی
وھو الشاب القو ی[25]
یعنی فتویٰ یا فتیا کسی مسئلے کوواضح کرنے کے معنی پر آتا ہے۔یہ فتیٰ سے نکلا ہوا لفظ ہے جس کا معنی ہے مضبوط جوان بس فتویٰ بھی قوی جواب کا نام ہے۔بعض علمائے لغت کے نزدیک یہ ‘الفتوة’ سے ماخوذ ہے جس کے معنی کرم، سخاوت، مروت اور زور آوری ہیں۔ فتویٰ کو بھی فتویٰ اس لیے کہتے ہیں کہ فتویٰ دینے والا مفتی اپنی فتوت یعنی سخاوت و مروت اور عالمانہ قوت سے کام لیتے ہوئے کسی دینی مسئلہ کا حل پیش کرتا ہےیا فتویٰ کے ذریعے مسلم معاشرے میں دین کو استحکام اور تحفظ دیا جاتاہے۔
فتوی کا اصطلاحی معنی:
علماء نے فتویٰ کے کئی تعریفات پیش کئے ہیں،جن میں بعض درج ذیل ہیں:
قال محمد کمال الدین احمد الرشد “أن الافتاء ھو الاخبار بحکم اللہ تعا لیٰ عن مسئلۃ دینیۃ بمقتضی الادلۃ الشرعیۃ لمن سأل عنہ فی أمر نا زل علیٰ جھۃالعموم والشمول لا علیٰ وجہ الالزام”([26])
قال القرافي في الفروق: الفتوى إخبار عن حكم الله تعالى في إلزام أو إباحة( [27])
وقال الجرجاني: “الإفتاء: بيان حكم المسألة”([28])
وقال ابن الصلاح: “قيل في الفتيا: إنها توقيع عن الله تبارك وتعالى” ([29])
وقال ابن حمدان الحراني الحنبلي: الإفتاء “تبيين الحكم الشرعي عن دليل لمن سأل عنه”. ([30])
وقال نواب صدیق حسن خان: هو علم تروي فیه الأحکام الصادرة عن الفقهاء في الواقعات الجزئیة لیسهل الأمر على القاصرین من بعدهم([31])
الفتویٰ “ھی الامرالشر عی الحاصل فی واقعۃ معینۃ لما سئل عنھا ([32])
مفتی محمدتقی عثمانی صاحب نےفتویٰ کے اصطلا حی تعریف اس طرح کی ہے-
“الفتویٰ فی الا صطلاحی الجواب عن مسئلۃ دینیۃ۔۔۔ ثم قدخصت الکلمۃ للاجابۃ عن سؤال شرعی”([33]) یعنی دینی مسئلہ سے جواب فتویٰ کہلاتاہے – پھر یہ کلمہ یعنی لفظ فتویٰ جواب کے ساتھ خاص ہوا جو سوال شرعی سے ہو-
قرآن مجید میں بھی افتاء اور استفتاء،اسی معنیٰ میں استعمال ہوتے ہیں جیسے
” یستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن”([34])
تو یہاں شرعی حکم بیان کرنے کے لئے افتاء اور استفتاء کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں – اس طرح قرآن مجید میں افتاء خبر اور جواب کے معنوں میں بھی استعمال ہواہے جیسے
“یوسف ایھا الصدیق افتنا فی سبع بقرات “([35])
اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی جواب شرعی کے معنیٰ پر افتاء کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے”اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار”([36])
ان تمام تعریفات کا خلاصہ یہ ہے کہ، فتویٰ یا افتاء کسی مسئلے کے بارے میں شرعی حکم بیان کرنے کو کہتے ہیں جو دلائل شریعت پرمبنی ہو۔
اصول افتاء کی لقبی تعریف:
ھوعلم یبحث فیہ عن اصول یعرف بھا اسلوب الافتاء ،والاستفتاء،وآداب الفتویٰ والمفتی والمستفتی-([37])
افتاءکی موضوع: اصول الافتاء وآدابہ-([38])
افتاء کی غرض وغایت: صیانۃالمفتی عن الخطاء فی الافتاء([39])
فتویٰ کے اقسام:
فتویٰ کے تین قسمیں ہیں – فتویٰ تشریعیہ، فتویٰ فقہیہ، فتویٰ جزئیہ ان تینو ں کے تفصیل درجہ ذیل ہیں-
1: فتویٰ تشریعیہ :
فتویٰ تشریعیہ وہ فتویٰ ہے جو کسی سوال کے جواب میں شارع سے صادر ہو – خوا و حی متلو سے ہو ، یا وحی غیرمتلو سے ہو –
چنانچہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اپنے کتاب ” اصول افتاء وآدابہ ” میں لکھتے ہیں –
أما الفتویٰ التشریعیۃ، فھی التی صدرت من الشارع ،اما بوحی متلو فی القرآن الکریم ، أو بوحی غیر متلو فی سنۃ النبی الکریم فی الجواب من سؤال او لبیان نازلۃ فی عہد النبی ﷺ فأصبحت شرعا عاما ([40])
ترجمہ: پس فتویٰ تشریعیہ وہ ہے جو شارع سے صادر ہوا ہو یا تو وحی متلو کے ذریعے قرآن کریم میں اور یا وحی غیر متلو نبی کریمﷺ کے سنت میں یہ وحی ، جواب میں ہو گی سوال سے اور یا کسی واقعہ کے پیش ہونے پر بیان کرنے سے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں پس وہ عام شریعت بنے – قرآن مجید میں فتویٰ تشریعیہ ،وحی متلو کے مثا ل
“یستفتونک فی النسا ء قل اللہ یفتیکم فیھن”([41])
آپ سے عورتو ں کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ کہیے اللہ آپ کو ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے-تو یہ وہ فتویٰ ہے جس کا جواب خود رب کائنات نے بذریعہ وحی نبی کریمﷺ کے زبان پر امت کو دی ہے اور شریعت کے احکام بیان کیئے ہیں کہ خواتین کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جائے گا ، نکاح وغیرہ میں ان کے حقوق بیان کیئے گئیے ہیں –
اسی طرح یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلٰلۃ ، یسئلونک عن الشھر الحرام ، یسئلونک عن الخمر والمیسر، یسئلونک عن الاھلۃ،
یہ سب فتویٰ تشریعیہ وحی متلوکے مثالیں ہیں- فتویٰ تشریعیہ ،وحی غیر متلو یعنی وہ جواب جو نبی کریمﷺ نے دیا ہو اور شریعت عام ہو – عن ابن عباسؓ ان امرأۃ جاءت الی النبیﷺ فقالت ان امی نذر ان تحج قبل تحج أفأحج عنھا ، قال نعم حجی عنھا-([42])
حضرت ابن عباس ؓ روایت کر تے ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ میری ماں نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کریگی لیکن وہ حج کرنے سے پہلے وفات پا گئی کیا میں ان سے حج کر سکتی ہوں ؟ آپﷺ نے فرمایا، ہاں ان سے حج کروں-
فتویٰ تشریعیہ نبی کریم ﷺ کی رحلت کے ساتھ بند ہو گیا ہے کیونکہ اس کا تعلق وحی کے ساتھ تھا یعنی فتویٰ کی یہ قسم صرف اپنے مخصوص احکامات کے ساتھ خاص ہے اگر اس مخصوص حکم کے متعلق سوال ہو جائے تو یہی مخصوص جواب دیا جائے گا اور فتویٰ تشریعیہ کہلائے گا ، تا ہم اس کے علاوہ اب کو ئی پیش آمدہ واقعہ اور سوال میں دیا جانے والا فتویٰ تشریعیہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا تعلق و حی کے ساتھ ہے -اور رسول اللہﷺ کے رحلت کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے-
2: فتویٰ فقہیہ:
اس سے مراد شریعت کے وہ احکامات ہیں جو ایک خاص سوال کے جواب میں واقع نہیں ہو ں بلکہ خود ایک فقیہ نے جمع کیا گیا ہو اور پھر اس کو بیان کیا ہوں یا ایک فقیہ جس سے کسی نے سوال نہیں پو چھا ہوں لیکن خود سوال اور جواب قائم کریں-فتویٰ کی یہ قسم فقہاءکی ان کتب میں ملتا ہے جس میں وہ ترتیب کے ساتھ مسائل مرتب کر تے ہیں جیسے طہارت کے متعلق مسائل ، نمازکے متعلق ، حج وغیرہ کے متعلق مسائل بیان کرکے کتب تصنیف کرتے ہیں – اس طرح اس میں وہ مسائل بھی ہیں جس کو فقہاء بیان کریں اور کسی سوال کے جواب میں نہ ہو یا مخصوص حادثہ اور واقعہ کے متعلق نہ ہو اور ان جزیات کے متعلق بھی مسائل بیان کر تے ہیں جس کےمتعلق سوال نہ کیا گیا ہو یا فر ضی سوال کے جواب میں فقہی مسائل بیان کریں-
چنانچہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں”ولٰکنہ یستنبط حکما با الادلۃ الشرعیۃ ویبینہ فی کتاب أورسالۃ أو فی جواب سؤال عام أو سؤال نشأ من افتراض مثل أن یسئل ما ھو الحکم فیمن قال لامرأتہ سر حتک دون أن یحال السؤال الیٰ واقعۃ معینۃ-([43])
مگر اس فتویٰ فقہیہ کا حکم ادلہ شرعیہ سے مستنبط کیا جاتاہے اور اس کو کسی کتاب یا رسالہ میں بیان کرتاہو یا عام سوال کے جواب میں ہو یا اس سوال کے جواب میں ہو جو خود فرض کرکے پیدا ہوا ہو جیسے سوال کیا جائے کہ کیا حکم ہے اس آدمی کا جو اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھے آزاد کردیا بغیر اس کے کہ اس سوال نے کسی معین واقعہ پر احاطہ کیا ہو-
3:فتویٰ جزئیہ:
فتویٰ کی اس قسم سے وہ فتویٰ مراد ہے جس میں ایک خاص واقعہ اور ایک مخصوص اور معین سوال کے جواب میں شریعت کا جو حکم بیان ہوا ہو تو اس کو فتویٰ جزئیہ کہتے ہیں –
چنانچہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے اس کی تعریف یوں کی ہے :
“والمراد بھا الجواب عن السؤال فی واقعۃ معینۃ بمنزلۃ الفقہ الکلی علی المو ضع الجزئیی مثل أن یسئل عن رجل معین ترک والدیہ وزوجۃ وابناء وبنتا فکیف یقسم ترکتہ بین ورثتہ”([44])
اور اس فتویٰ جزئیہ سے مراد وہ جواب ہے جو معین واقعہ سے سوال کے بارے میں ہو اس طریقے پر کہ فقہیہ جزئی کے منزلہ پر لیا جائے جیسے ایک معین شخص کے بارے میں پو چھا جائے جس نے ترکہ میں ماں ،باپ، بیوی اور اولاد چھو ڑا ہو تو کسی طرح ترکہ کو ان کے مابین تقسیم کیا جائے گا- یہاں میراث کے احکام ظاہر ہے کہ قانون کلی ہے یہ کسی خاص واقعہ اور سوال کے متعلق نازل نہیں ہے لیکن جو سوال کیا گیا ہے وہ خاص واقعہ ہے اب اس قانون کلی کو جزئیہ کے طور پر لےکر جواب دیا جائے گا، اس طرح قصاص ، دیت اور بیو عات میں اس کے مثالیں دیا جا سکتے ہیں –
آج کل جو فتوے دئے جاتے ہیں اکثر ان میں سے اسی قسم کے ہوتے ہیں یعنی ان پر فتویٰ جزئیہ کا اطلاق ہوتاہے تا ہم یہ فتویٰ فقہیہ بھی کہلاتے ہیں- چنانچہ مفتی محمد تقی عثمانی صا حب لکھتے ہیں :
“واکثر ما یطلق لفظ الافتاء علیٰ ھذا لنوع وان کان یطلق علی الفتویٰ الفقہیۃ ایضا”([45])
اور اکثر لفظ فتویٰ کا اطلاق اسی قسم پر ہوتاہے اگر چہ اس کا اطلاق فتویٰ فقہیہ پر بھی ہوتاہے-
فتویٰ اور افتاء کی اہمیت و نزاکت:
تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ طلبہ کو تعلیم دینا اور استفتاء کرنے والوں کو فتویٰ دینا فرض کفایہ ہے اور اگر کسی مسئلہ یا واقعہ کے پیش آنے کے وقت صرف ایک ہی ایسا شخص ہو جو اس کا جواب دے سکتا ہو تو اس کےلیے جواب دینا فرضِ عین ہے اور اگر وہاں اس کے علاوہ کوئی اور شخص بھی اس کا اہل ہو تو پھر یہ دونوں کے لئے فرض کفایہ ہوگا۔فتویٰ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فتویٰ دینے کی نسبت اپنی کتاب میں خود اپنی طرف کرتے ہوئے فرمایا:
وَيَستَفتونَكَ فِى النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فيهِنَّ”([46])
اے پیغمبر! یہ آپ سے عورتوں کے متعلق فتویٰ طلب کرتے ہیں، فرما دیجئے !اللہ تمھیں ان کے متعلق فتویٰ دیتا ہے۔ تو گویا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات خود ہی مفتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنی احکا مات دنیا میں جاری کرنے کے لئے محَمد رسول اللہ ﷺ کو مبعو ث فرمایا – آپﷺ خود یہ فریضہ انجام فر ما دیتے تھے، اب یہ ذمہ داری اس امت کی ان لوگوں کو سونپی گئی ہے جس کے پاس قرآن وحدیث کا علم ہو یعنی علماء تو گویا کہ علمائے امت اس عظیم میں رسول اللہﷺ کے نائبین ہیں-
اللہ تعالیٰ نے بھی علم والوں کو اپنی کتاب کے وارثین قرار دئے ہیں،ارشاد باری تعالیٰ ہے:
” ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا”([47])
پھر ہم نے یہ کتاب ان لوگوں کو میراث میں دی جس کو ہم نے چن لیا ہے- حدیث مبارکہ میں بھی علماء کو وارثین انبیاء قرار دیا گیا ہے” ان العلماء ورثۃ الانبیاء ” ([48])
یقینا علماء انبیاء کرام کے وارثین ہیں- تو معلوم ہوا کہ افتاء کا فریضہ خود باری تعالیٰ نے انجام فرمایا، پھر رسول اللہﷺ اور اب علماء کرام یہ فریضہ انجام دینگے-
درحقیقت مفتی بندو ں کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق خبر دیتا ہے اوران کو آگاہ کردیتا ہے کہ فلاں کام اور واقعہ میں دین اور شریعت کا کیا حکم ہے- امام نوویؒ نے ابن منکدر ؒ کا قول نقل کیا ہے کہ مفتی اللہ تعالیٰ اور اس کے مخلوق کے مابین ہوتاہے، وہ لکھتے ہیں
” العالم بین اللہ تعالیٰ وخلقہ ، فلینظر کیف ید خل بینھم”([49])
عالم اللہ تعالیٰ اور اس کے مخلوق کے درمیان ہوتا ہے پس وہ دیکھے کہ کس طرح داخل ہو تا ہے. اس طرح امام نووی ؒ لکھتے ہیں ” المفتی موقع عن اللہ تعالیٰ”([50])
مفتی اللہ تعالیٰ کے طرف سے رائے کا اظہار کرتاہے –
علامہ ابن قیمنے اس سلسلہ میں اپنی مایہ ناز اور بلند پایہ کتاب “اعلام الموقعین عن ربّ العالمین” میں لکھا ہے:
وإذا كان منصبُ التوقيعِ عن الملوك بالمحَلّ الذي لا يُنكَر فضلُه، ولا يُجهل قَدْرُهُ؛ وهو من أعلى المراتب السَّنِيَّاتِ، فكيف بمنصب التوقيع عن ربِّ الأرض والسموات؟! فحقيقٌ بمَنْ أُقيم في هذا المنصب أن يُعِدَّ له عُدَّتَهُ، وأن يتأهَّب له أُهْبَتَهُ، وأن يعلم قَدْرَ المقام الذي أُقيمَ فيه، ولا يكونَ في صدره حَرَجٌ من قول الحق والصَّدْع به؛ فإن الله ناصرُهُ وهاديهِ، وكيف وهو المنصبُ الذي تولاَّه بنفسه ربُّ الأرباب؛ فقال تعالى: ﴿ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ ﴾ وكفى بما تولاَّه الله تعالى بنفسه شرفًا وجلالة؛ إذ يقول في كتابه: ﴿ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ ﴾
ولْيَعْلَمِ المفتي عمَّن يَنُوبُ في فتواه، وَلْيُوقِن أنه مسؤولٌ غدًا وموقوفٌ بين يدَيِ الله([51])
اور جب بادشاہوں کے طرف سے رائے کا اظہار اس مر تبے پر ہو کہ ان کی فضیلت سے انکار نہ کیا جا سکتا ہو اور ان کی قدر سے غفلت بھی نہ کیا جاتا ہو اور یہ اعلیٰ مرتبو ں میں سے ہے تو زمین اور آسمانوں کی رب کی جانب سے رائے کی ا ظہار کا منصب کیسی ہو گی؟ پس حقیقت یہ ہے کہ جس کو یہ مقام دیا جائے وہ اس کےلئے خوب تیاری کرے اور اس مقام کی قدر ومنزلت کو پہچان لے ،اور اس کے دل میں حق بات کےلئے حرج اور شکاف پیدا نہ کرے، یقینا اللہ تعالیٰ ان کا مدد گار اور ہادی ہے اور یہ کس طرح یہ تو وہ منصب ہے جس کی نسبت خود رب الارباب نے اپنی طرف پھیر دی ہے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں آپ کہے کہ اللہ تعالیٰ فتویٰ دیتا ہے آپ کو عورتوں کے بارے میں اور وہ کچھ جو آپ کو بڑھانے جاتے ہیں کتاب میں اور اس منصب کے لئے یہ کافی ہے کہ اس کی شرافت اور بزرگی تو اپنی طرف پھیر دی ہے جس طرح اپنی کتاب قرآن میں فرمایاہے ، آپ سے پو چھتے ہیں آپ کہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو فتویٰ دیتا ہے کلالہ کے بارے میں ، اور مفتی یہ جان لے کہ وہ فتویٰ میں کسی کا نائب ہے اور یہ یقین رکھنا چا ہیئے کہ کل اس کے متعلق پو چھا جائے گا-
یعنی مفتیان حضرات سے جب دینی مسائل دریافت کیے جاتے ہیں تو ان کا جواب دیتے وقت گویا وہ اللہ ربّ العزت کی طرف سے دستخط کرتے ہیں۔ جب ملوک وسلاطین کی طرف سے دستخط کرنے کا منصب اس قدر بلند ہے کہ اس کی قدرومنزلت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور دنیا میں اسے عالی مرتبہ شمار کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دستخط کرنے کی عظمت وشان تو اس سے کہیں زیادہ بلند وبرتر ہے۔اس طرح رسول اللہﷺ زندگی بھر اس عالی شان منصب پر فائز رہے، کیونکہ نبوت کا اصل محور یہی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّرونَ([52])
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (اے پیغمبر! ) ہم نے آپکی طرف ذکر(شریعت)کو نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ان کی طرف نازل شدہ شریعت کی تشریح فرمائیں تاکہ وہ غور فکر کریں۔
تو منصب افتاء اور فتویٰ دینا بہت اعلیٰ مرتبے کی ذمہ داری ہے اور اس کی اہمیت تسلیم شدہ ہے –لازمی بات ہے کہ اس منصب پر کام کرتے ہوئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے اور جب تک ممکن ہو یہ بوجھ او رذمہ داری اپنے سے بہتر اور ماہر شخص کو سونپنی چاہئے اور اسپر دلیری ااور جسارت نہ کرنا چا ہئے-
منصب افتاء اور خطرات: منصب افتاء اگر چہ ایک عظیم مقام ہے لیکن اس عظمت کے ساتھ ساتھ اس میں عظیم خطرات بھی مو جود ہیں –منصب افتاء کی عظمت کے پیش نظر اس میں لا پرواہی سے فتویٰ دینا ، یا غفلت کرنا باعث عذاب ہوتا ہے ۔
جیسا کہ سنن ابی داؤد کی حدیث مبارک ہے۔
عن أبی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من أفتی بغیر علم کان اثمہ علیٰ من أفتاہ([53])
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ” جس کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا –تو اسی کا گناہ اسی پر ہو گا جس نے فتویٰ دیا ہو “دورحاضر میں فتویٰ ہمارے قومی اور عالمی میڈیا کا ایک مرکز ی موضوع بن چکا ہے – مختلف مو ضو عات پر بات کرنے کےلئیے مختلف قسم کے لو گوں کو بلایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں مذہبی سکالر کے لقب سے نواز ا جاتا ہے اور چرب زبانی کے زور پر حق کو باطل اور باطل کو حق بنا کر پیش کرنے کی کو شش کرتے ہیں – یہ لو گ محض سستی شہرت کے لئے فتویٰ کے اصول وقواعد کو بالائے طاق رکھ کر تتبع الرخص کی اصول پر چلتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ افتاء کا منصب بہت اہم اور نازک ہے – جو شخص فتویٰ دیتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان وسیلہ اور پل کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ اللہ کی طرف سے دستخط کرتا ہے کہ فلاں مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے- ۔ چنانچہ علامہ نووی فرماتے ہیں:
اعلم أن الإفتاءَ عظيمُ الخطر، كبيرُ الموقع، كثيرُ الفضل؛ لأن المفتيَ وارثُ الأنبياء صلواتُ الله وسلامه عليهم، وقائمٌ بفرض الكفاية، لكنه مُعَرَّضٌ للخطأ ولهذا قالوا: المفتي مُوَقِّعٌ عن الله تعالى([54])
یقیناً فتویٰ دینا انتہائی حساس،قابل قدر اور بڑی فضیلت کاکام ہے، کیونکہ مفتی، حضرات انبیائے کرام کا وارث ہوتا ہے اور فرضِ کفایہ کوادا کرتا ہے۔ گو وہ ان کی طرح معصوم عن الخطا نہیں ہوتا بلکہ اس سےسہو وخطا کا صدورممکن ہوتا ہے غالباً اسی لیے علماءنے کہا ہے کہ مفتی اللہ ربّ العزت کی طرف سے دستخط کرنے والا ہوتا ہے۔
چونکہ فتویٰ کا موضوع اللہ تعالیٰ کے احکام بیان کرنا ہے تاکہ لوگ ان کے مطابق عمل کرسکیں، اسی لیے مفتی کو اللہ تعالیٰ کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے۔لیکن سلف صالحین علم میں اعلیٰ درجہ رکھنے کے با وصف اصدار فتویٰ کے بارے میں حد درجہ محتاط ہوا کرتےتھے۔
فتویٰ میں احتیاط علماء سلف سے چند مثالیں:
صحابہ کرام اور تابعین عظام اورائمہ دین فتویٰ دینے میں بہت ہی زیادہ محتاط تھے ، اس کی چند مثالیں۔ جلیل القدر تابعی عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں :
” أدرکت عشرین ومأۃ من اصحاب رسول اللہﷺ ما منھم رجل یسأل عن شئی الاَ ودَ أن أخاہ کفاہ ۔۔۔ یسأل أحد ھم عن المسألۃ فیردھا الیٰ ھٰذا وھٰذا الیٰ ھٰذا حتیَٰ ترجع الی الاوَل۔([55])
میں نے ایک سو بیس انصاری صحابہ کرام کو پایا ان میں سے جس سے بھی کسی مسئلہ کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ یہی
چاہتا کہ اس بارے میں اس کا جواب اس کا بھائی دے ۔ اور کھبی ان سے کوئی سوال ہو تا تو وہ اپنے بھائی کی طرف اشارہ
کرتے اور وہ تیسرے کی طرف اشارہ کرتے یہاں تک کہ وہ سوال پہلے ساتھی کی طرف لوٹ آتا۔
اس طرح مالک ابن انس امام دار الھجرۃؒ فرماتے ہیں فرماتے ہیں: مدینہ منورہ میں میری بہت سے علماء ، فقہاء سے ملاقات ہو ئے ان میں سے کسی سے کو ئی دینی مسئلہ پو چھا جاتاتو ان کی حالت ایسی ہو جا تی کہ گو یا موت طاری ہوگئی ہے ۔
جبکہ ہمارے زمانے میں لوگ فتویٰ دینے کو پسند یدہ مشغلہ سمجھتے ہیں ۔ اگر ان لوگوں کو قیامت کے دن غلط فتویٰ کی سزا کا علم ہو تو وہ کبھی فتویٰ نہ دیں گے ۔ امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ؓ ، علی بن ابی طا لبؓ کا زمانہ خیر القرون کا زمانہ تھا اور یہ لوگ خیار صحا بہ میں سے تھے جن ان سے کسی مسئلے کے متعلق دریافت کیا جاتا تو وہ اصحاب رسولﷺکو جمع کرتے اور ان سے اس مسئلے کے بارے میں پو چھتے پھر جس بات پر اتفاق ہو جاتا اس کے مطابق فتویٰ صادر کرتے ۔ جبکہ ہمارے دور میں لوگ فتویٰ دینے پر فخر کرتے ہیں۔([56]) امام مالک ابن انس ؒ کے بارے میں آتا ہے کہ ان سے ایک دن پچاس مسائل کے بارے میں سوال کیا گیا ان میں سے کسی کا جواب نہیں دیا بلکہ آپ کہا کرتے تھے کہ:
من أجاب فی مسئلۃ فینبغی قبل الجواب أن یعرض نفسہ علی الجنۃ والنار وکیف خلا صہ ثم یجیب۔([57])
کوئی بھی عالم جواب دینے سے قبل خود کو جنت ، یا جہنم پر پیش کرے اور یہ سوچے کہ نجات کس طرح ممکن ہے پھر جواب دے۔ ابن عون کہتے ہیں کہ: ایک دن میں قاسم ابن محمد بن ابی بکر کے ساتھ تھا، ایک شخص آیا اور کسی مسئلہ کے متعلق ان سے پو چھنے لگا آپ نے جواب میں فرمایا: مجھے اس بارے میں مکمل علم نہیں،تو سائل نے کہا: میں یہاں کسی عالم کو نہیں جانتا آپ ہی اس بارے میں رہنما ئی کریں ۔ آپ نے فرمایا :تم میری لمبی داڑھی اور میرے ارد گرد لو گو ں کےہجوم کو دیکھ کر دھوکے میں مت آؤ، واقعتا مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے اسی مجلس میں مو جود ادھیڑ عمر کے ایک قریبی آدمی نے کہا:
اے اجنبی تم اس مسئلہ کی بات ان سے جواب کے لئیے اصرار کرو میں نے اس مجلس میں تم جیسا ہوشیار نہیں دیکھا ہے۔تو قاسم نے فرمایا:
لأن یقطع لسانی أ حب الیٰ من أن أتکلم بما لا علم لی بہ،([58])
میری زبان کا کٹ جانا مجھے زیا دہ محبوب ہے اس بات سے کہ میں کسی ایسے سوال کے متعلق جواب دوں جس کا مجھے صحیح علم نہ ہو۔([59])
فتویٰ میں جرأت مندی اور جلد بازی دکھانے والے سلف کی نظر میں:
مشہور محدث سفیان ابن عیینہؒ فرماتے ہیں :
“أجرؤالناس علی الفتویٰ أقلھم علما “۔([60])
فتویٰ دینے میں زیادہ جرأت مند وہ شخص ہوتا ہے جو علمی طور پر نکمَا ہو ،
عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں :
” ان الذی یفتی الناس فی کل ما یسألونہ لمجنون-([61])
جو شخص ہر پو چھنےوالے سوال کا جواب دے وہ پاگل ہے۔ اس طرح عبد اللہ ابن مسعود ؓ کا فرمان ہے” اے لو گو ں جس شخص سے کسی چیز کے بارے میں پو چھا جائے اسے اس کا علم ہو تو ضرور اس کوبیان کرے ، اور جس کو علم نہ ہو تو وہ “اللہ اعلم” کہے کیونکہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کے بارے میں “اللہ اعلم”کہنا بھی علم ہی ہے کیونکہ اللہ نے اپنے حبیب کو یہ کہنے کا حکم دیا ہے ۔
قل ما أسئلکم علیہ من أجر وما انا من المتکلفین۔([62])
کہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں ۔ سنن دارمی کی ایک روایت میں ہے ” من فقہ الرجل أن یقول لما لا علم لہ بہ ” اللہ اعلم”([63])
انسان کی بصیرت اس میں ہے کہ جس کا اسے علم نہ ہو ، اس میں وہ اللہ اعلم (یعنی اللہ بہتر جانتا ہے) کہے۔ عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہے کہ جو شخص کوئی ایسا فتویٰ دیتاہے جس کا اسے علم نہ ہو تواس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔ابو حصین عثمان ابن عاصم ؒ فرماتے ہیں
” ان احدھم لیفتی فی المسئلۃ لو وردت علیٰ عمؓر لیجمع أھل بدر”([64])
آج کل لو گ ایسے ایسے مسائل میں فتویٰ دینے لگے ہیں اگر یہ مسائل حضرت عمر ؓ کو درپیش ہو تے تو وہ اہل بدر کو جمع کرکے ان سے ان کا حل معلوم کرتے۔
فتوی کا انسانی زندگی اور معاشرہ سے انتہائی گہرا تعلق ہے،فقہ و فتاوی سے انسانی زندگی کے شب وروز،معاشرہ کے نشیب و فراز میں نہ یہ کہ صرف رہنمائی ملتی ہے،بلکہ اس سے معاشرہ کو حرکت اور جزبہ بھی نصیب ہو تاہے۔
پس جب ایک مستند مفتی کسی مسئلہ کے جواب کے لیے قلم اٹھاتا ہے،تو اس کے دل میں جہاں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے،اسی طرح سائل کے حالات، زمانے کی تبدیلی اور حالات کے تقاضے سمیت بہت ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر پوری بصیرت اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے وہ شریعت کی ترجمانی کرتا ہے، موجودہ دور میں “فتویٰ” کی معنویت وافادیت اور اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں تجارت و ملازمت اور صنعت و حرفت و ایجادات کی نئی نئی شکلوں نے جنم لیا ہے۔
ایک شخص اپنے آپ کومسلمان بھی کہے،یعنی وہ ایک مکمل “نظامِ حیات” کا پابند بھی ہو اور اسے اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں
فتوی کی ضرورت پیش نہ آئے، ایساممکن ہی نہیں۔
بلکہ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق و اعمال میں سیکڑوں ایسے مواقع آتے ہیں،جہاں اسے فتوی کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے اور یقینی طور پر وہ فقہائے عظام اور مفتیانِ کرام کی رہبری کا محتاج ہوتا ہے، جو اس کو قرآن و سنت کے حکم سے آگاہ کرتے رہی گے۔
پس اس سے یہ بات بھی بالکل واضح ہو گئی کہ فتویٰ دینا ہر کسی کا کام نہیں ۔اور اس کے لئے قرآن و سنت کے تحقیقی علم اور ادراک کی ضرورت ہے۔اور اپنےزمانے کے حالات سے باخبر رہنا چاہیئے۔
فتویٰ کا تاریخی پس منظر:
اللہ تعالیٰ نے اپنی اشرف المخلوقات کے ہدایت کے لیے ان میں سے برگزیدہ اورپاک سیرت لو گوں کو منتخب کیا اور ان کو منصب نبوت عطا فرمایا۔ اپنے پیغامات اورزندگی گزار نے کے لئے قانون و اصول ان ہی بندو ں کے ذریعے مبعوث شدہ انسانوں کے امت کو پہنچایئے، لھٰذا ہر ایک رسول اپنی امت کے لیے مھتدیٰ اور مقتدیٰ ہو نے کے ساتھ ساتھ مفتی بھی رہے ۔
نبی کریم ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں آپ بھی اسی امت کے پہلے مفتی تھے ، رسول سے بڑھ کر کویئ عہدہ اور منصب نہیں ہوتا اس لیے آپ ﷺ کو مفتی نہیں کہلا ئے ۔ لیکن درحقیقت آپ ﷺ کے دربار میں صحابہ کرام ؓ اپنے مسائل اور سوالات لے کر جاتے تھے اور شرعی حل طلب کرتےتھے، اس طرح نبی کریم ﷺ دین اسلام کی دعوت پھیلانے کے ساتھ ساتھ منصب افتاء پر بھی فائز تھے۔ صحابہ کرام ؓ ہر مسئلے میں آپﷺ کی جانب متوجہ ہو تے ، ان کے سوالات کے جوابات قرآنی آیات میں بھی دیے جاتے تھے اس وجہ سے قرآن مجید میں یستفتونک اور یسئلونک جیسے اصطلا حات استعما ل ہو تے ہیں۔ دراصل آپﷺ کی ذمہ داریوں میں یہ شامل تھا کہ شریعت کے احکامات اللہ تعالیٰ کی بندوں کو پہنچا ئے ، ارشاد ربانی ہے
” لتبین للناس ما نزل الیھم”([65])
اس لئے کہ آپ بیان کیجئے (وہ احکامات ) جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں قرآن مجید کے آیات مبارکہ کے علاوہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کے سوالات کے جوابات اپنے ارشادات مبارکہ سے بھی دے ، جس کو وحی خفی یا وحی غیر متلو بھی کہا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ بحیثیت مفتی اعظم:
فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کا سلسلہ رسول اللهﷺ کے زمانے سے شروع ہوا،کیونکہ آپ ہی مہبطِ وحی، شارعِ اسلام اور مرجع خلائق تھے۔اور آپ ﷺاپنے زمانے کی مجیب اور مفری تھے ، چونکہ لفظ رسول مفتی سے بدرجہاں بہتر وافضل ہے اسی وجہ سے آپ رسول کے مقدس نام سے یاد کیئے جاتے ہیں اگر چہ نبی کریم ﷺ اپنے زمانے کے قاضی القضاۃ اور مفتی اعظم بھی تھے اور آپﷺ کے فتویٰ حدیث نبوی کے نام سے یاد کیئے جاتے تھے۔ چنانچہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب عہد رسالت فتویٰ کے متعلق
لکھتے ہیں :
” اوَل من قام بمنصب الافتاء سیدالمرسلین وخاتم النبین ﷺ وکأیفتی عن اللہ بوحیہ المبین وکا نت فتاواہ جوامع الأحکام وھی أکبر مأخذ للشریعۃ الأسلامیۃ بعد القرآن الکریم وکانت الصحابۃ یحفظو نھا فی الصدور وا لزبر” ([66])
سب سے پہلے جو اس منسب قائم تھے، سید المرسلین اور خا تم النبینﷺ تھے اور قرآن کریم کے بعد یہ شریعت کا سب سے بڑا نأخذ ہے اور صحابہ ان کو سینو ں اور کتابوں میں محفوظ کرتے تھے۔
اس بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ عہد رسالت میں نبی کریمﷺ جس طرح دین اسلام کی اشاعت میں مصروف عمل تھے اس طرح نبوت کے ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل تھی کہ امت کو اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچا ئے ، صحابہ کرام اپنے سوالات لے کر حاضر ہو جاتے تھے اور نبی کریم ﷺ وحی متلو یا غیر متلو سے فتویٰ دیا کر تے تھے، صحابہ کرام آپ کے ان فتاؤں کو اپنے سینو اورصحیفوں میں محفوظ کرتے تھے۔ عہد رسالت کے یہی فتوے آج بھی امت کےلیئے مشغل راہ ہیں اور قانون حیات بھی ہیں اس طرح قرآن کے بعد شریعت کا سب سے بڑا مأ خذ وہ عہد رسالت کے فتوے ہیں ۔
عہدِ رسالت میں فتاویٰ کا سلسلہ اکثر و بیشتر زبانی طور پر ہی چلتا رہا۔ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آتاتو لوگ رسول اللهﷺ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ آپ وحی الٰہی کی روشنی میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔
حضرات صحابہ کرام نے الله تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ان ارشادات پر سختی سےعمل کیا اور اُنہوں نے آنحضرتﷺ سے صرف وہی سوالات پوچھے جو ناگزیر تھے اور جن کے پوچھنے کی اُنہیں واقعی ضرورت تھی۔
حضرات صحابہ کرام اور اِفتاء:
رسول اللہ ﷺ کے بعد جلیل القدر صحابہ کرام کی طرف لوگ فتویٰ کے لیے رجوع کیا کرتے تھے، صحابہ کرام اپنے اجتہاد سے ان مشکل دینی مسائل کے بارے میں فتاویٰ صادر فرماتے۔ صحابہ کرام ؓ نبی کریمﷺ کے براہ راست شاگرد تھے، اس وجہ سے وہ اس عظیم کام کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے ۔ اس طرح بڑے احتیاط سے اس کام کو سر انجام دیتے تھے، صحابہ کرام اس واقعہ اور سوال کے جواب میں فتویٰ صادر فرماتے جو ان کو پیش آجاتا ، ہر ایک مسئلے کا جواب وہ پہلے قرآن وحدیث سے دیتے ،اگر اس میں نہ ملتا تو پھر اپنے سے بڑے کے طرز عمل کو دیکھ کر وہ اختیار کرتے، اگر اس میں بھی ملتا تو پھر اپنی رائے اور اجتھاد سے جواب اور فیصلہ فرماتے۔ چنانچہ سنن دارمی کی حوالے سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے فتویٰ میں صحابہ کا طرز عمل بیان کیا ہے کہ وہ جب فتویٰاور فیصلہ فرماتے تو سب سے پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتے اس کے بعد سنت رسول کی طرف۔ وہ لکھتے ہیں
” فقد اخرج الدارمی فی سننہ عن شریح أن عمر ابن الخطاب ؓ کتب الیہ ان جا ء شئی فی کتاب اللہ فاقض بہ ولا یلتفتک عنہ الرجال فأن جاءک مالیس فی کتاب اللہ ولم یکن فیہ سنۃ من رسول اللہ فا نظر ما جتمع علیہ الناس فخذ بہ فأن جاءک ما لیس فی کتا ب ا للہ ولم یکن فی سنۃ رسول اللہﷺ ولم یتکلم فیہ احد قبلک فاختر أی الامرین شئت ، ان شئت أن تجتہدبرأیک ثم تقدم فتقدم وان شئت ان تتأخر فتأ خر ولا أری التاخیر الا خیرالک”([67])
امام دارمی نے اپنی سنن میں شریح سے ایک روایت نقل کی ہے کہ عمرؓ بن خطاب نے آپ (شریح) کو لکھا اگر آپ کو کویئ چیز کتاب اللہ کے حوالے سے پیش آجائے تو کتاب اللہ پر فیصلہ کرو اور لوگ آپ کو اس سے پھیر نہ دیں، اور اگر تجھےکویئ ایسی چیز پیش آجائے جو کتاب اللہ میں نہ ہو تو سنت رسول کو دیکھے اور ان پر فیصلہ کرو، اگر آپ کو کویئ ایسی چیز سامنےآئے جو کتاب اللہ اور سنت رسول میں نہ ہو تو دیکھو جس پر لو گوں نے اجماع کی ہو ان پر عمل کرو اوراگر نہ کتاب اللہ میں ہو اور سنت رسول میں بھی نہ ہو اور آپ سے پہلے لوگوں نے اس پر بات نہ کی ہو تو اپنے لیئے دو کاموں میں سے ایک کو اختیار کرلو ، اگر آپ چاہے کہ اپنی رائے سے اجتھاد کرلو تو پھر سامنے آکر فیصلہ کر لو اور اگر آپ چاہے توبان سے پیچھے ہٹ جاؤ اور میں آپ کے لئیے تاخیر کو پسند کرتا ہوں۔
یہی طرز عمل خود عمرابن خطابؓ کاتھا اس لیئے شریح بن حارث کو بھی یہی طریقہ اختیار کرنے کو کہا اور دیگر صحابہ کرام جو فتویٰ جاری کرتے تھے ان کا بھی یہی طریقہ ہوتا۔
عہدِ صحابہ میں فتاویٰ کا سلسلہ زبانی اور تحریری دونوں طریقوں سے جاری رہا۔صحابہ کرام میں سے بعض سے تو کثرت سے فتاویٰ منقول ہیں اور بعض کے فتاویٰ کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ ان میں سے بعض کے فتاویٰ کی تعداد کثرت و قلت کے درمیان ہے۔
اُن میں سے مدینہ منورہ میں خلفائے راشدین کے علاوہ حضرت زید بن ثابت، حضرت اُبیّ بن کعب، حضرت عبدالله بن عمر اور امّ المؤمنین حضرت عائشہ، مکہ مکرمہ میں حضرت عبدالله بن عباس، کوفہ میں حضرت علی اور حضرت عبدالله بن مسعود، بصرہ میں حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو موسیٰ اشعری، شام میں حضرت معاذبن جبل اور حضرت عبادہ بن صامت اور مصر میں حضرت عمرو بن عاص رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اَسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔
تاریخ کے صفحات میں تقریباً ایک سو تیس حضرات صحابہ کرام کے اسماے گرامی محفوظ ہیں، جو مسندِ افتا پر فائز تھے۔امام ابن حزم اور حافظ ابن قیم نے باقاعدہ ان صحابہ کی فہرست مرتب فرمائی ہے جومنصبِ افتا پر فائز تھے۔
تابعین و تبع تابعین اور افتاء:
صحابہ کرام کے عہد کے بعدمنصب افتاء اور فتویٰ کی ذمہ داری جلیل القدر تابعین و تبع تابعین نے سنبھالی اور اس اہم فریضہ کو جاری رکھا ۔ تابعین اور تبع تابعین کے فتاؤں سے أئمہ مجتہدین نے بہت زیادہ استفادہ کیا اور ان سے راہنمایئ حاصل کرکے اس کام کو جاری رکھا ، فتویٰ کی تر تیب تابعین وتبع تابعین نےحقیقت میں صحابہ کرام ؓ سے حاصل کی تھی ، انھوں نے صحابہ کرام کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر اس وقت کے حالات اور مسائل کو شریعت کے روشنی میں واضح کیا۔
صحابہ کرامؓ کے زمانے کے بعد جلیل القدر تابعین وتبع تابعین منصبِ افتا پر فائز رہے، ان میں سے سعید بن مسیّب، سعید بن جبیر، عروہ بن زبیر، مجاہد، عطا، علقمہ بن قیس، قاضی شریح، یزید بن ابی حبیب اور لیث بن سعد نمایاں ہیں۔
امام ابن حزم نے تو ان تابعین، تبع تابعین اوردیگر اَئمہ دین کی ایک مفصل فہرست بھی مرتب کی ہے جو صحابہ کرام کے بعد مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بصرہ کوفہ ،شام، مصر اور دیگر علاقوں میں منصبِ افتا پر فائز رہے[68]۔
مثلاً مدینہ منورہ میں سعید بن المسیب، ابوسلمہ، عروہ، عبید اللہ، قاسم بن محمد، سلیمان بن یسار اور خارجہ بن زید رحمہم اللہ، منصب افتاء پر فائز تھے۔
اور مکہ مکرمہ میں عطا بن ابی رباح، علی بن ابی طلحہ اور عبدالمالک بن جریج یہ کام کیا کرتے تھے۔ کوفہ میں ابراہیم نخعی ، عامر بن شراحیل وغیرہ اور بصرہ میں حضرت حسن بصری، یمن میں طاوٴس بن کیسان اور شام میں مکحول رحمہم اللہ، اس کام کو انجام دیتے تھے۔اِسی طرح قیروان ، اندلس ، یمن اور بغداد میں بھی ممتاز اصحابِ علم نے اپنے اپنے دور میں فن فتاویٰ نویسی کو عروج دیا اور عوام اپنے دینی مسائل کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے رہے۔یوں یہ کام وسعت اختیار کرتا گیا اور دنیا کے اطراف میں اسلام پھیل گیا۔ بہر حال یہ بات واضح ہے کہ منصب افتاء رسول اللہﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ نے سنبھالاتھا، اور ان کے بعد ان ہی اصو لوں کے مطابق تابعین اورتبع تابعین نے یہ منصب بر قرار رکھا اور امت کے مسائل حل کرتے رہے۔
تاریخِ فتاوٰی نویسی:
تابعین کے دور کے بعد تاریخ اسلام میں کوئی بھی دور ایسا نہیں جس میں فتاویٰ کے مجموعے مرتب نہ کیے گئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ادبِ اسلامی میں فن فتویٰ نویسی میں ایک تسلسل نظر آتا ہے اور کوئی بھی دور اس صنف سے خالی نہیں رہا۔آج بھی اسی فن میں عرق ریزی سے کام جاری ہے۔
مأخذ فتویٰ:
کسی بھی فقیہ کے لئے یہ بات بھی ضروری ہے کہ وہ فتویٰ کے انجام دہی کےلئے قرآن وسنت اور دیگر ادلہ کا ضروری علم حاصل کریں ، محض چند مسائل یاد کرنے یا چند احا دیث اور قواعد یاد کرنے پر کوئی فقیہ اور مفتی نہیں کہلایا جا سکتا ، بلکہ قرآن وحدیث کے ساتھ جو دیگر علوم و فنون ہیں ان سے آگا ہی حاصل کرنا بھی ضروری ہے ۔ اس بات پر تمام مکاتب فکر کے فقہاء متفق ہیں کہ فقیہ کے لیے صرف یہ بات کافی نہیں کہ وہ اسی مسلک کے مدوَن کتب فقیہ سے فتوے جاری کرے بلکہ ان کے لیے قرآن کے علوم اور بطور خاص مفتی کے لیے آیات الأحکام اس طرح ناسخ ومنسو خ کا علم اور ساتھ ہی احادیث کا علم بھی لازمی ہے۔
مأخذ کا معنی حاصل کرنے اور پانے کی جگہ یا ذریعہ ہے۔مأخذ فتویٰ سے وہ ذرائع مراد ہیں جن سے فتویٰ اخذ کیاجاتا ہے۔
تکمیل دین کے بعد یہ غالب امکان تھا کہ مستقبل میں نئے مسائل پیش آئیں گے۔ اس لئے دین اسلام نے ایسے مسائل کا سامنا
کرنے اور ان کا مناسب حل بتانے کے لئے کچھ بنیادیں فراہم کردیں تاکہ مسائل کے احکام کی طرف مکلف لوگوں کی راہ نمائی کی جاسکے اور ان کا حل ممکن ہو سکے۔ یہ بنیادیں تفصیلی دلائل کہلاتی ہیں۔جو دو قسم کے ہیں اصلی اور ذیلی۔
اصلی سے مراد قرآن وسنت کے مآخذہیں۔تمام ائمہ مجتہدین کا اس پراتفاق ہے کہ شرعی احکام کے اصل مآخذ یہی دو ہیں۔ ان دونوں کا مصدر چونکہ وحی ہے اس لئے انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی یہ کسی صورت میں قابل تغیر ہیں۔
ذیلی سے مراد اجماع اور قیاس وغیرہ ہیں۔یہ وہ مصادر ہیں جن کا درجہ وحی کا نہیں مگر اس کی تائید ضرور کرتے ہیں۔ اور اصلی مآخذ کے تابع ہیں۔ اس بناء پر ان کی حیثیت تسلیم کی گئی ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا”([69])
اے ایمان والو!تم اﷲکا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں جو لوگ اہل امر ہیں ان کا بھی، پھر اگرکسی امر میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو اس امر کو اﷲاور رسول کی طرف حوالہ کرلیا کرو اگر تم اﷲاور یوم قیامت پر ایمان رکھتے ہو،یہ امور سب امور سے بہتر ہیں اور ان کا انجام خوش تر ہے۔
اسی مفہوم کی بہت سی آیتیں ہیں اور سب کی سب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی اتباع وفرمانبرداری اور جو کچھ آپ لے کر آئے، اس کی پیروی کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں۔کتاب اور سنت دونوں ایسے اساس اور اصل ہیں کہ ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہیں۔
پس مفتی جب فتویٰ دیتے ہیں تو اس کا مأخذ اصلی قرآن و سنت ہوگا۔بس یہی مزاج شریعت ہےکیونکہ اوپر تفصیلی بیان ہوا کہ مفتی اصل میں “مخبر عن اللہ” یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا اور ترجمانی کرنے والا ہوتاہے۔
صحابہ کرام کا اسلوب فتویٰ:
صحابہ کرام ؓ نبی کریمﷺ کے براہ راست شاگرد تھے، اس وجہ سے وہ اس عظیم کام کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے ۔ اس طرح بڑے احتیاط سے اس کام کو سر انجام دیتے تھے، صحابہ کرام اس واقعہ اور سوال کے جواب میں فتویٰ صادر فرماتے جو ان کو پیش آجاتا ، ہر ایک مسئلے کا جواب وہ پہلے قرآن وحدیث سے دیتے ،اگر اس میں نہ ملتا تو پھر اپنے سے بڑے کے طرز عمل کو دیکھ کر وہ اختیار کرتے، اگر اس میں بھی ملتا تو پھر اپنی رائے اور اجتھاد سے جواب اور فیصلہ فرماتے۔ چنانچہ سنن دارمی کے ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نقل کرتے ہیں-
“عن عبید اللہ بن ابی یزیؓد قال کان بن عباسؓ اذا سئل عن أمرفکان فی القرآن أخبر بہ وان لَم یکن فی القرآن وکان عن رسول اللہﷺ أخبر بہ فان لم یکن فعن أبی بکر ؓوعمرؓ فان لم یکن قال فیہ برأیہ”([70])
عبید اللہ ابن یزید کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباسؓ سے کسی کام کے متعلق پو چھا جاتا اور قرآن میں ہوتا تو اس سے جواب دیتے اور جب قرآن سے نہ دے پا ئے اور رسولﷺ سے ثابت ہو تا تو اس سے جواب دیتے، اگر اس میں سے نہ دیتے تو ابو بکرؓاور عمر ؓ کے اقوال سے دیتے اور اگر اس میں بھی نہ ہوتا تو اپنے رائے سے دیتے ۔
صحابہ کرام میں جو فتویٰ کے منصب پر فائز تھے ،اُن کا بھی یہی انداز اور اسلوب تھا کہ جو ہی قرآن مجید میں اور سنت رسول ﷺ میں دیکھتےتھے، کسی چیز کے پرواہ کئے بغیر اسی کے مطابق فتویٰ دیتے۔
اگر ان کو قرآن وسنت میں وہ چیز نہ ملتی تو پھر اجتہاد کرتے ۔اجتہاد کے نتیجے میں جو رائے قرآ ن و سنت کے مقاصد و اصول کے موافق لگتی اسی کو اختیار کرتے۔اس کے بارے میں جو مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئےچند سوال کئے ،
درجہ ذیل ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أراد أن يبعث معاذا إلى اليمن قال: ” كيف تقضي إذا عرض لك قضاء؟ قال: أقضى بكتاب الله. قال فإن لم تجد في كتاب الله؟ قال فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال فإن لم تجد في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا في كتاب الله؟ قال أجتهد رأي ولا آلو؟ فضرب رسول الله صلّى الله عليه وسلّم صدره وقال: “الحمد لله الذي وفّق رسول رسول الله لما يُرضي رسول الله([71])
جب حضور اکرم نے حضرت معاذ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا فرمایا تم کس طرح فیصلہ کرو گے جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو جائے انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا آپ نے فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سنت رسول میں بھی نہ پاؤ تو اور کتاب اللہ میں بھی نہ پاؤ تو انہوں نے کہا کہ اپنی رائےسے فیصلہ کروں گا اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینہ کو تھپتھپایا اور فرمایا کہ اللہ ہی کیلئے تمام تعریفیں ہیں جس نے اللہ کے رسول کے رسول (معاذ) کو اس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں۔
یہ حدیث اگر چہ متکلم فیہ ہے لیکن ائمہ فقہاء کے ہاں اس کو تلقّی بالقبول حاصل ہے۔اس میں اگر چہ قضا کے متعلق تذکرہ ہے لیکن قضا اور فتویٰ میں مأخذ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔امت کے تمام مجتہدین کا بھی یہی اسلوب اورمنہج فتویٰ تھا۔
مو جودہ دور اور افتاء:
افتاء کا کام بہت ہی اہم کام ہے، اس میں سنت نبوی ، صحابہ کرام ؓ، تابعین اور تبع تابعین کے طرز عمل اور ان کےجو اصول تھے تو آج بھی مفتیان امت کو ان تمام اصولوں کو مد نظر رکھ کر یہ کام سر انجام دینا چاہیئے ۔ مفتی جو کچھ بھی فتویٰ دیتا ہے اس میں
پو ری دیانت ملحوظ رکھنا چاہیئے ، یقینا وہ بحیثیت نا ئب رسول حکم شرعی کی نشان دہی کرنے والا ہو تا ہے ۔ مفتی فتوی ٰ صادر کرکے کو ئی نیا قانون نہیں بناتا نہ وہ اس کی زاتی رائے ہوتی ہے بلکہ وہ تو صرف قانون اسلامی کی مقرر دفعہ کو بتلاتا ہے یا وضاحت کرتا ہے جو دفعات اپنے موقع پر کتب فقہیہ وفتاویٰ میں قرآن وحدیث سے ثابت ہوئی ہے اس لیئے اسلام کے جس قانون کو مفتی بتلاتا ہے اس کاقرآن وحدیث اور دیگر ادلہ سے ثابت ہونا کافی ہے، لھذا اگر کویئ اس طرح کے فتوے پر طعن کرتا ہے تو درحقیقت قانون اسلام کو نشانہ بنا رہا ہے۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عوام الناس اور دیگر جو ادارے ہیں سرکاری محکموں کے لوگ اس طرح میڈیا کے مختلف چینلز ان سب کو سمجھا نا چاہیئے کہ فتویٰ کو یئ ایسی چیز نہیں جو آج منظر عام پر آیا ہے۔ بلکہ وہ فقہ اسلامی کی کو یئ دفعہ ہے جو ہمیشہ سے مسلم ہے فتویٰ کویئ شا ہی فرمان بھی نہیں کہ ہر کس وناکس سے اس پر جبری طور عمل کروایا جائے، اس کا تعلق براہ راست اس شخص سے ہو تا ہے جو سوال کرتاہے اور فتویٰ کے ذریعے اس شخص کی را ہنمایئ کردی جاتی ہے ۔ میڈیا پر شائع ہو نے والے فتویٰ سے عام طور پر یہ تأ ثر قائم ہوتاہے کہ یہ نیَا فتویٰ اور فرمان ہے ،جو حال ہی میں جاری ہوا ہے ، اس سے عموما یہ تأ ثر پھیلتا ہے کہ اب تک اسلام یا مسلمانو ں کے یہاں اس سلسلے میں ایسی بات نہیں تھی ، لیکن حقیقت میں واقعہ اس کے بلکل بر عکس ہے ، فتویٰ کے ذریعے اسلام کے ہمیشہ سے طے شدہ مسلمہ مسائل کی کسی دفعہ کو سامنےلایا جاتا ہے اور وہ کسی بھی معنیٰ میں کویئ نیا معاملہ نہیں ہو تا ۔
اگر میڈیا کسی فتویٰ کو شائع ہی کرنا چاہتا ہے تویہ اس کی دیانت وامانت کا تقاضہ ہے کہ پورا فتویٰ مع سوال وجواب اور فتویٰ نمبر کے حوالے کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرے میڈیا کو سوال و جواب کے الفاظ میں تصرف کرنا یعنی کمی بیشی کرنا، تقدیم وتاخیر کرنا ، الٹ پلٹ کرنا ، اپنے طور پر اس کا مفہوم متعین کرکے اپنے الفاظ میں پیش کرنا ہر گز درست نہیں کیونکہ یہ خیانت ہے بلکہ سوال وجواب کا پورا متن شائع کرنا چاہیئے۔تو کسی کو فتویٰ اور مفتی تنقید کا نشانہ بنانا نہیں چا ہیئے البتہ کسی علمی و اجتہادی مسئلے میں علمی اختلاف کا حق ان علماء ومفتیان کو ضرور ہے جو علم واجتہاد اور اصول افتاء کے تقاضو ں کو پورا کرتے ہو ۔
افتاء آج کی دور سے لیکر روز اوَل یعنی جس دن سے دین اسلام روئے زمین پر اس کی تدریج و اشاعت کا فیصلہ رب کائنات کے جانب سے ہوا افتاء کا وہ عظمت اور شان برقرار ہے۔ جس طرح عہد رسالت میں لوگ احکام خداوندی پہچاننے،جاننے اور معلوم کرنے کے لیئے بے تاب ہوا کرتے تھے، یقینا آج بھی امت میں ایسے لوگ مو جود ہیں جو کہ ہر وقت ایک حکم اور حادثہ کے متعلق یہ جاننا چاہیتے ہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا رضا اور رسول اللہ ﷺ کا طریقہ کیا ہے۔
آج جبکہ دنیا بہت زیادہ ترقی کر گئ ہے اور آیئے دن نئے نئے انقلابات دیکھنے کو مل رہے ہیں دنیا میں سیاست ،معیشت، عدالت عرضیکہ ہر شعبہ میں ایسے سوالات پیدا ہو رہے ہیں جو کہ اس عظیم کام کے بغیر حل نہیں ہو سکتے ۔ لیکن آج بھی اللہ تعالیٰ نے اس عظیم کام کے لئے ماہرین پیدا کیے ہیں کہ وہ امت کے لئے ان تمام مسائل کاحل ادلہ شریعت سے دیتے ہیں ۔ پوری دنیا میں اس کام کے ماہرین پیدا کرنے کے لئے مختلف ادارے ، جامعات اور مدارس قائم کئے ہیں جہاں پر ان کو قدیم اور جدید مسائل کے بارے میں فتویٰ کے اصول وقوا عد بتائے جاتے ہیں ، ایک سالہ ، دوسالہ اور تین سالوں پر مشتمل مختلف کورس اور دورہ جات کا انعقاد کیا جارہاہے جس میں دنیا کے ہر مکا تب فکر کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔
بہر حال جتنی زیادہ ضرورت چودہ سو سال پہلے تھی ،ہر دور میں وہ کم نہ ہو سکی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ضرورت مزید بڑہتی چلی گئی ، لیکن الحمد للہ آج تک تاریخ میں ایسا کویئ واقعہ اور ایسا کو یئ سوال پیش نہ آیا جن کا اس وقت کے مفتیان کرام جواب دینے میں نا کام ہو گئے ہو یاپیچھے ہٹ گئے ہو ، بلکہ فتویٰ لینے کے کام کو آسان سے آسان تر بنانے کے لئے وقت کے تقاضوں کے مطابق مفتیان کرام کام بھی کر رہے ہیں اور ہر وقت کسی بھی مسئلے کے متعلق وہ شرعی حل حاصل کروانے کے لئے موجود ہوتے ہیں ۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ افتاء میں صحابہ کرام ؓ اور تابعین کے اصولوں پر عمل کر کے ہر طرح کی آسانی اور اچھی فضا کے ساتھ سر انجام دیا جا سکتا ہے۔
عورت اور منصب افتاء:
دین اسلام میں علم کے حصول مرد اور عورت دونو ں کے لئے لا زم ہے ، اس طرح اگر عہد رسالت پر نظر ڈالا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امہات المؤمنین صحابہ کرام ؓ اور دوسرے لو گوں کے سوالات کے جوابات اورشرعی مسائل بیان فرما تیں تھیں تو معلوم ہو تا ہے کہ اگر عورت بھی علم شریعت رکھتی ہو تو وہ بھی یہ ذمہ داری ادا کر سکتی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ دارالعلوم دیو بند میں عورت کی افتاء کے متعلق اس طرح بحث کی گئی ہے ۔ افتاء کے فرایئض عورتیں ، غلام اور گونگے بھی انجام دے سکتے ہیں ، اگر ان میں وہ تمام شرائط ومحاسن جمع ہو جو ایک مفتی کے لئے ضروری ہے۔([72])
اس طرح امام نوویؒ آداب الفتویٰ ،میں لکھتے ہیں :
سواء فیہ الحر والعبد والمرأۃ”([73])
امام نوویؒ مفتی کے شرائط کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس میں آزاد غلام اور عورت برابر ہیں۔ ابن صلاح کاقول اس طرح ذکر کیا گیا ہے” لایشترط فی المفتی الحریۃ والذکورۃ”
مفتی کے لئے آزاد ہو نا اور مرد ہو نا شرط نہیں ہیں۔([74])
لھٰذا ان تمام اقوالوں سے معلوم ہوا کہ مفتی بننے میں مرد کا شرط نہیں ہے، عورت بھی مفتی بن سکتی ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن قئم ؒ نے اپنے کتاب اعلام الموقعین میں بایئس(22) صحابیات کی نامیں ذکر کردیا ہے جس نے فتوے جاری کر رہی تھی جن میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ، حضرت صفیہؓ وغیرہ تھی، حضرت عائشہؓ نے صرف فتوے کاکام نہیں کرتا بلکہ جس صحابی کی فتوے میں غلطی تھے تو اس پر برابر تنقید کرتی تھی، اس طرح علامہ سیوطیؒ نے ایک رسالہ لکھا ہے اور اس میں وہ مسائل مذکور ہے جس میں حضرت عائشہؓ نے صحابہ کرامؓ کے ساتھ تعارض تھی اور اس پر تنقیدات تھی۔ اس طرح عمرہ بنت عبدالرحمان نے اپنے بتیجھے ابو بکر ابن قاسم کے فتوؤں کی نگرانی کرتی تھی۔ فقہ حنفی کا مشہور فقیہ امام ابو جعفر کے بیٹی اپنے زمانے کی بڑی عالم اور مفتی تھی، اس طرح شیخ علاؤالدین ثمرقندی کے بیٹی فاطمہ اپنی زمانے کی بڑی فقیہ تھی شیخ علاؤ الدین نے ایک کتاب لکھا : تحفۃ الفقہاء: اورپھر اس نے اعلان کردیا کہ جس نے اس کتاب کاشرح کیا ،تو اس شخص کو میں اپنی بیٹی نکاح پر دونگا تو علامہ الکاسانیؒ نے بدائع الصنائع لکھا تو علامہ ثمرقندیؒ نے بیٹی اس کو نکاح پر دیا ۔ پھر جب اس کے گھر سے فتویٰ نکلتاتھا تو اس پر مہریں اوردستخط تھی مرد عورت اور والد کا-
عورت مفتی بننی کے لئے دو شرائط ہیں۔
1: عورت اپنی علم دورانیہ اور مفتی کو رس ایک فقیہ عالم اور مفتی اور مستند عالم کے نگرانی میں کریں۔
2:اسلامی شرعی پردے کے تقاضوں کا پورا پورا خیال رکھنا ۔ لھذا آج کے دور میں خواتین کی مسائل کے حل کرنے کے لیے عورت کے لیے افتاء کرنا ضروری ہے۔
مفتی کی تعریف: مفتی کی مختلف تعریفات کی گئی ہیں، جن میں سے چند یہاں پیش کی جا تی ہیں۔ ادب المفتی والمستفتی میں کئی محقیقن کی تعریفات ذکر کی گئی ہیں۔
علامہ شاطبیؒ نے مفتی کی تعریف اس طرح کی ہے
“المفتی ھو القائم فی الا مۃ مقام النبیﷺ
مفتی وہ ہے جو امت میں نبی ﷺ کے مقام پر قائم ہو ۔ ابن حمدان ؒ نے اس طرح تعریف کی ہے
“المفتی ھو المخبر بحکم اللہ تعالیٰ لمعرفتہ بدلیلہ ، وقیل ھو المخبر عن اللہ بحکمہ
مفتی اللہ تعالیٰ کی حکم سے خبر دینے والا ہوتا ہے ، ان کی پہچان کے لئے دلیل کی وجہ سے اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جانب سے ان کے حکم کی خبر دینے والا ہوتاہے ، ابن حمدان نے یہ تعریف بھی کی ہے
“ھو المتمکن من معرفۃ احکام الوقا ئع شرعا با الدلیل مع حفظہ لأ کثر الفقۃ
وہ جو قدرت رکھتا ہے احکام کی معرفت کی شرعی دلیل کے ساتھ جو واقع ہو جا ئے اور ساتھ ان کو اکثر فقہ یاد ہو۔
علامہ ابن قئم ؒ نے مفتی کی تعریف اس طرح کی ہے
“المفتی ھو المخبر عن حکم اللہ غیر منفذ
مفتی اللہ تعالیٰ کی حکم کی خبر دینے والا ہوتا ہے نا فذ کرنے والا نہیں ہوتا۔
مفتی کے لئےآداب وشرائط:
علماء نے مفتیانِ کرام کے لئے چند آداب،وشرائط کا تذکرہ کیا ہے،جن میں بعض درج ذیل ہیں:
1: اخلا ص نیت اورنیت صالحہ :
منصب افتاء ایک انتہا یئ مقدس کام ہے لہذا اس میں اخلاص نیت بہت زیادہ ضروری ہے کسی بھی دیگر اغراض سے بے نیاز ہو کر
صرف رب کی رضا کی خاطر یہ کام انجام دینا چا ہیئے امام احمد ابن حنبلؒ کا قول فتا ویٰ دارالعلوم دیؤبند میں ذکر کیا گیا ہے کہ پانچ چیزیں اگر نہ ہو تو مسند افتاء کو زینت بخشنے کی جرأ ت نہ کرے ، اس میں ایک نیت صالحہ ہے وہ لکھتے ہیں۔ نیت صا لحہ تو اس لئے ضروری ہے کہ ہر کام کی جان اور روح یہی پاک نیت ہے ، پھر ایسا جواب نور الٰہی سے خالی ہو گا اور خصوصی برکت سے محروم ہو گا۔
لھذا مفتی کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ اس کی نیت اچھی ہو یا وہ حسن نیت والا ہو کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔ اور جس شخص کی نیت ہی اچھی نہ ہوگی نہ تو خود اس پر علم کا نور ہوگا اور نہ ہی اس کی بات پر۔
2: تقویٰ اور عدل وانصاف:
مفتی کے شروط میں ان اوصاف کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے، ان کی مد نظر یہ بات ہو نی چاہیئے کہ وہ اللہ اور مخلوق کے درمیان ترجمان ہے ، پیغمبر کا وارث ہے، لھذا وہی اخلاق ، تقویٰ اور عدل وانصاف اپنانا ہوگا۔ امام نوویؒ لکھتے ہیں ۔
” والتفقوا علیٰ أن الفاسق لا تصح فتواہ”([75])
اس پر اتفاق ہے کہ فاسق کا فتویٰ قابل قبول نہ ہو گا۔
اسی طرح ادب المفتی والمستفتی میں ذکر ہیں ” لا تصح فتوی الفاسق”([76])
فاسق آدمی کا فتویٰ صحیح نہ ہوگا۔
3: اخلا ق حسنہ:
مفتی کے لیے یہ بہت اہم صفت ہے ۔ اس لیے کہ مسائل پو چھنے کے لیے ہر طرح کے لوگ آسکتے ہیں ، سب کے ساتھ اچھا رویہَ اپنانا چاہیئے ۔ امام نوویؒ لکھتے ہیں
” اذا کان المستفتی بعید الفہم فلیرفق بہ ویصبر علیٰ تفھم سؤالہ وتفھیم جوابہ فانہ ثواب جزیل “
جب مستفتی بعید الفہم ہو تو ان کے ساتھ نرمی کرے ، سوال سمجھنے اور جواب سمجھانے میں صبر کرے کیو نکہ یہ بہت زیادہ ثواب ہے۔ لھٰذا مفتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ بردبار، پروقار ،حوصلے والا اور اخلاق حسنہ کے مالک ہو کیونکہ یہ خوبیاں علم کا لباس اور اس کی خوبصورتی ہیں۔ جب کسی مفتی کے اندر یہ صفات نہ ہوں تو اس کا علم لباس سے عاری جسم کی طرح ہوتا ہے۔
4: احوال زمانہ سے واقفیت:
احوال زمانہ سے واقفیت اور آگاہی بہت لا زمی ہے، یعنی ارد گرد کے ماحول میں ہو نے والے معاملات اور ان کے طریقہ کار جاننا مفتی کے لیے بہت اہم ہے، ایسا نہ ہو کہ مفتی ظاہر پر فتویٰ دیں اور جوعرف و معاشرہ میں ان کے خلاف ہو ان سے وہ خبر نہ ہو بلکہ عرف اور لوگوں کے مصلحتوں کو مد نظر رکھ کر فتویٰ دیا جائے گا۔ الفنیہ کا قول شرح عقود المفتی رسم میں اس طرح نقل کیا گیا ہے ۔
” لیس للمفتی ولا للقاضی أن یحکما علیٰ ظاہر المذہب ویترکا العرف “
مفتی اور قاضی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ظاہری مذہب پر فیصلہ دیں اور عرف کو چھوڑ دیں۔ اسی طرح فقہ کی ایک قاعدہ ہے ۔
” من جہل بأھل زمانہ فھو جا ھل
” جو اپنے زمانے کے احوال سے خبر نہ ہو تو وہ جاہل ہے۔
5: مسائل پر عبور اور قواعد کا علم:
مفتی کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ جن مسائل میں فتویٰ دیتا ہو ان پر عبور حاصل ہو ، اس طرح جو اصول ہو مذہب اور امام کے ان سے بھی آگاہی لا زمی ہے۔چنانچہ امام طحاویؒ فرماتے ہیں”ویشترط أن یحفظ مسائل امامہ ویعرف قواعدہ واسالبہ“([77])
اورمفتی کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اسے اپنے امام کے مسائل یاد ہو اور ان کے قواعد اور اسالیب میں مہارت رکھتا ہو۔
6: لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے پرہیزکرنا:
مفتی کےلیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے پرہیز کرے کیونکہ اگر یہ ان کے ہاں سے کوئی چیز کھائے گا تو وہ دگنااس کاگوشت کھائیں گے اور خون پئیں گے۔
7: لوگوں کی پہچان میں ملکہ حاصل کرنا:
مفتی کو لوگوں کی پہچان میں ملکہ حاصل ہو کیونکہ جب اس کے اند ر چہرہ شناسی کا علم نہ ہو گا تو وہ ظالم کو مظلوم تصور کرلے گا یا مظلوم کو ظالم تصور کرے گا، اس طرح اس پر مکروفریب غلبہ پالے گااور اس طرح مفتی صاحب اصلاح سے زیادہ فساد پھیلائیں گے۔
8: توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رہے:
مفتی کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رہے اور وہ اسی کے سامنے عاجزی اختیار کرے اور زیادہ سے زیادہ دعا اور استغفار کرے تاکہ اسے درست بات اس کے دل میں ڈالی جائے اور درستگی کے راستے اس کے لیے کھولے جائیں۔
9: فیصلہ کی نسبت اللہ اور اس کے رسولﷺکی طرف کرنا:
وہ فیصلہ کی نسبت اللہ اور اس کے رسولﷺکی طرف کرنے سے ممکن حد تک بچے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی واضح نص ہو ، جس پر وہ اس معاملے میں اعتمادکرتا ہو۔
10: علم ودین میں اپنے سے پختہ سے اپنے فتوؤں میں مشورہ کرنا:
وہ علم ودین میں اپنے سے پختہ سے اپنے فتوؤں میں مشورہ کرے ، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں جب بھی کوئی نیا معاملہ پیش آتا تو وہ اپنے پاس موجود صحابہ سے اس بارے میں مشورہ کرتے تھے اور بسا اوقات تو وہ سب کو جمع کرلیتے اور پھر ان سے مشاورت کرتے۔
11: اپنے علم پر عمل کرنا:
مفتی کے لیے بہت زیادہ ضروری صفت یہ ہے کہ وہ اپنے علم پر عمل کرے کیونکہ عمل ہی علم کا پھل ہے اور عمل کے بغیر انسان کا علم اس کے خلاف حجت بن جاتا ہے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب “اعلام الموقعین” میں مفتی کے جو آداب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، مذکورہ بالا اس کی مفہوم ہے۔([78])
1: لسان العرب ج 10ص305 مکتبہ دار احیاءالتراث العربی بیروت)
[2] : القاموس المحیط ص 1151
[3] : المو سعۃالفقہیہ ج 32 ص193 مکتبہ انوارالقرآن
[4] : تاج اللغۃ لا سماعیل ابن حماد الجوہری
[5] : سورۃ ھود:91
7 : صحیح بخاری، کتاب العلم، باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین
8 : صحیح بخآری، کتاب الوضوء، باب وضع الماء عند الخلاء،[10]
[11]: ارشادالفحول (ج1 ص7)، المستصفی للغزالی(ج1 ص18)، البحرالمحیط للزرکشی (ج1 ص110)، الاحکام لآمدی (ج1ص50)(الموسعۃ الفقہیہ ج32 ص193 انوارالقرآن کتب خانہ)(ردالمحتار ج1 ص 36 مکتبہ دارالفکر)
[12] : قا موس الفقہ ج 1 ص339 زمزم پبلیشرز
[14] : المو سعۃ الفقہیہ ج 32 ص 195 انوارالقرآن کتب خانہ
[15] : ردالمحتار ج1 ص38 مکتبہ دارالفکر
6 : الفقہ الاسلامی وادلتہ ج 1ص30مکتبہ رشیدیہ
[17] : مقدمہ ابن خلدون ج 2 ص341
[18]: ردالمحتار ج 1 ص 38 مکتبہ دارالفکر
[19]: سورۃ التوبہ آیت نمبر 122
[20] : المصباح فی رسم الفتی ومناھج الافتاء ص 18 المکتبۃ المعروفیۃ کوئٹہ لا ہور
[21] : سورۃ یوسف آیت 43
[22] : اصول الافتاء وآدابہ ص9 الفصل الاول الفتویٰ وخطورتھا مکتبہ دار القلم دمشق
[23] : المفردا ت ج 10 ص 379
[25] : المصباح فی رسم المفتی ومناھج الا فتاء ص 18 المکتبۃ المعرو فیۃ
[26] : المصباح فی رسم المفتی ومناھج الا فتاء ص19 المکتبۃ المعروفیہ
4 : آداب المفتي والمستفتي للإمام النووي
6 : ابجد العلوم از نواب صدیق حسن خان (ج2 ص327)
[32] : اصول الا فتاء وآسان اصول تحقیق ص 16 مکتبہ عمر فاروق
[33] : اصول الافتاء وآدابہ ص 9 مکتبہ دار القلم دمشق
[34] : سورۃالنساء ایت نمبر127
[35]: سورۃیوسف ایت نمبر36
[36]: سنن دارمی ج 1ص 57 مکتبہ رحمانیہ
[37] : اصول الافتاء وآسان اصول تحقیق ص 17 مکتبہ عمر فاروق
[38] : اصول الافتاء وآسان اصول تحقیق ص 17 مکتبہ عمر فاروق
[39] : اصول الافتاء وآسان اصول تحقیق ص 17 مکتبہ عمر فاروق
[40] :اصول الا فتاء وآدابہ ص 11
[41]: سورۃ النساء ایت نمبر 127
[42]: صحیح البخاری کتاب الحج باب الحج والنذر عن المیت
[43] : اصول الافتاء وآدابہ ص 12
[44]: اصول الافتاء وآدابہ ص12
[45]: اصول الافتاء وآدابہ ص 13
3 : أعلام الموقعین عن رب العالمین (ج1 ص10)
1: سورۃ النساء176
3: سنن ابی داؤد مو سعۃالسنہ کتاب العلم باب الحث علیٰ طلب العلم ج 4 ص 57 مکتبہ دار سحنون
[51] : أعلام الموقعین عن رب العالمین (ج1 ص10)
[53] : سنن ابو داؤد ج 2 ص 515 باب التو قی فی الفتیاء
[55] : سنن دارمی ج1 ص 248، (جامع بیان العلم و فضلہ ج2 ص274
[56] : ترتیب المدارک ج 1 ص 179
[57] : اداب المفتی والمستفتی لابن صلاح ج 1 ص 79
[58]: جامع بیان العلم وفضلہ ج 2 ص 45
[59]: جامع بیان العلم وفضلہ ج 2 ص 45
[60]: جامع بیان العلم وفضلہ ج 2 ص 49
[61] : جامع بیان العلم و فضلہ ج2 ص 276
[62] : سورۃ ص : ایت86
[63] : سنن دارمی رقم الحدیث 180
[64]: الآداب الشرعیۃ لابن مفلح ج 2 ص65
[65]: سورۃ النحل ایت نمبر 44
[66] :اصول الافتاء وآدابہ ص 37
[67]: اصول الا فتاء وآدابہ
[68]: اعلام الموقعین، (ج1 ص۱۷۔۲۲)
[69]: سورۃ النساء:59
[70]: اصو ل الافتاء و آدابہ ص 40
[71]: سنن ابی داود، کتاب الاقضیۃ، باب اجتہاد الرأی فی القضاء
[72]: فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج 1 ص 90
[73] : آداب الفتویٰ للامام نوویؒ ص 21
[74] :آداب المفتی للامام نوویؒ ص 106
[75]: ادا ب الفتویٰ للامام نووی ص 21
[76]: ادب المفتی والمستفتی ص 23
[77]: فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج 1 ص 94
[78]: اعلام الموقعین (ج2 ص153)